پاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف اس وقت برطانیہ میں اپنے بیٹوں کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں اور وہیں سے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لندن کی سڑکوں اور پارکس میں ان کی چہل قدمی کرنے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اکثر موضوع بحث بنتی ہیں جبکہ سیاسی محاذ آرائی اور الزام تراشی کے ماحول میں نوازشریف کی صحت کو لے کر مستقل تنازع موجود رہتا ہے جس کی بازگشت عدالتوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔
اردو نیوز کے مطابق چند روز قبل ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ لندن کے ہائیڈ پارک میں ساتھیوں کے ہمراہ چہل قدمی کر رہے تھے، ان کے ہمراہ 8 افراد تھے جبکہ کورونا وبا کے باعث ہائیڈ پارک میں 6 سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد ہے۔
ویڈیو سامنے آتے ہی کئی ٹوئٹر صارفین نے میٹروپولیٹن پولیس کو شکایت درج کرائی کہ سابق وزیراعظم کورونا کے متعلق حکومتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

ایک ٹوئٹر صارف نے ان کا نام اور رہائش گاہ کا ایڈریس بھی ساتھ لکھ دیا جس کے جواب میں پولیس نے پوری تفصیلات مانگ لیں۔
صارف نے ٹوئٹر پر میٹروپولیٹن پولیس کو مکمل تفصیلات فراہم کر دیں جس کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ یہ معاملہ مقامی پولیس کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ برطانوی حکومت نے کورونا کی دوسری لہر کے پیش نظر کئی ایس او پیز کا اعلان کیا تھا جن میں کسی خاندان کے زیادہ سے زیادہ 6 افراد گھر سے باہر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔
12 برس سے کم عمر بچوں کو اس سے استثنیٰ حاصل تھا۔
لندن کے میئر صادق خان نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے اگلے چند روز میں شہر میں سخت لاک ڈاؤن نافذ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کورونا مریضوں کے اسپتال داخلے کی شرح میں اضافہ دیکھ رہے ہیں، انہوں نے لندن میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سے ملتے جلتے تصور کی بات بھی کی۔