امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنے آئی فون 12 کو انتہائی مشکل وقت میں آج لانچ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
کورونا کی وبا کے باعث جہاں لاکھوں امریکی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں وہیں ہزاروں افراد اپنی ملازمتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
امریکی صدر سمیت ہزاروں اعلیٰ حکام کے کورونا ٹیسٹ مثبت آ چکے ہیں۔ ایسے میں ایپل کی جانب سے نیا فون متعارف کرانا اور اسے مارکیٹ میں فروخت کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
دنیا بھر میں اپنے خوبصورت اور مہنگے اسمارٹ فون کی وجہ سے شہرت رکھنے والی کمپنی ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل مارکیٹ میں لانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
اس سے قبل کمپنی کی جانب سے آئی فون کے 4 نئے ماڈلز کی تقریب رونمائی 13 اکتوبر کے کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ آئی فون کے ان نئے ماڈلز میں آئی فون 12 منی، آئی فون 12، آئی فون 12 پرو اور آئی فون 12 پرو میکس شامل ہوں گے۔
اپنے نئے فلیگ شپ فون میں فائیو جی انٹرنیٹ چلانے کی صلاحیت کے ساتھ تیز ترین وائرلیس نیٹ ورک کے ساتھ کنیکٹ ہونے والا پہلا ماڈل ہوگا۔
ایپل کا نیا ماڈل اب تک مارکیٹ میں لائے گئے تمام اسمارٹ فونز کے مقابلے میں خوبصورت اور جدید ہوگا جس کی قیمت ایک ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
اس فون کے پری آرڈر 16 یا 17 اکتوبر سے شروع ہوں گے جبکہ ریٹیل میں 23 یا 24 اکتوبر میں دستیاب ہوگا۔6.7 انچ ڈسپلے کے آئی فون پرو میکس کی قیمت 1099 ڈالرز ایک لاکھ 80 ہزار پاکستانی روپے سے زائد سے شروع ہوگی جبکہ اس میں لیڈار سنسر اور 5 ایکس آٹپیکل زوم والا ٹیلی فوٹو کیمرا ہوگا۔
ہر نئے ماڈل کے ساتھ لاکھوں فون مارکیٹ میں لانے والی کمپنی کے صارفین مالی لحاظ سے مشکل کا شکار ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں نئے ماڈل کی فروخت سوالیہ نشان بن سکتی ہے۔
اس سے پہلے سال 2008 میں آئی فون کا تھری جی ماڈل بھی ملکی معیشت میں غیر یقینی کے دوران ریلیز کیا گیا تھا۔
اسی دوران امریکہ میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے چوتھا بڑا بینک دیوالیہ ہو کر کام بند کر چکا تھا۔
کمپنی عموماً ستمبر میں اپنے نئے ماڈلز ریلیز کرتی ہے لیکن رواں سال کورونا کی وجہ سے آئی فون 12 کی ریلیز میں تاخیر کی گئی۔