جنیوا: اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 20 سالوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 1980 سے 1999 کی دہائی میں 4000 قدرتی آفات کے واقعات پیش آئے جب کہ 2000 سے 2019 تک ان واقعات کی تعداد 7348 تک پہنچ گئی۔
اقوام متحدہ کے قدرتی آفات سے متعلق ادارے کی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی واقعات کے لحاظ سے ایشیا خطرناک رہا جب کہ موسمیاتی حدت آئندہ آنے والی دہائیوں میں خطرناک ترین ہو سکتی ہے۔
قدرتی آفات کے خطرات میں کمی سے متعلق عالمی دن کے موقعے پر جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 20 سالوں کے دوران پیش آنے والے 7348 واقعات میں 1.23 ملین جانیں ضائع ہوئیں جب کہ 4.2 ارب لوگ متاثر ہوئے۔
ان واقعات میں عالمی معیشت کو 2.97 ہزار ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق واقعات میں بھی عالمی سطح پر بہت نقصان ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1980 سے 1999 تک پیش آنے والی موسمیات واقعات کی تعداد 3656 رہی جب کہ 2000 سے 2019 تک یہ واقعات 6681 ہو گئے۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے جینیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 20 سالوں میں پیش آنے والے واقعات کے جائزے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم جان بوجھ کو تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔
ترجمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران کورونا کی وبا کی وبا سے نمٹنے کو قدرتی آفات سے نمٹنے سے آسان قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم کورونا سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر کے خود کو آئسولیٹ کر سکتے ہیں لیکن شدید موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے خود کو آئسولیٹ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس کا حل ہرگز نہیں ہے۔
بیلجئم یونیورسٹی آف لووین کے ایک ماہر صحت کا کہنا ہے کہ آئندہ دس سالوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر غریب ممالک اس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ 20 سالوں تک موسمیاتی شدت میں اضافے کی شرح اسی طرح رہی تو انسانیت کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔