• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

عابد ملہی کی گرفتاری، پولیس کیلئے انعام کے اعلان پر لاہور ہائیکورٹ کا اظہار برہمی

by sohail
اکتوبر 14, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کی گرفتاری پر پولیس کے لیے انعام کے اعلان پر برہمی کا اظہار کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں پولیس کی جانب سے زمین پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس قاسم خان نے موٹروے زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کی گرفتاری پر پولیس کو انعام دینے کے اعلان پر حیرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے استفسار کیا کہ ملزم کو پکڑنا پولیس کی ذمہ داری ہے، پھر اس پر انعام کیسا؟ کیا اب پولیس انعام کے اعلان کا انتظار کرے گی اور پھر ملزم پکڑے گی؟

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عابد ملہی ان سے پکڑا نہیں جاتا اور جب پکڑا جاتا ہے تو 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان کر دیتے ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ پولیس کا کام ملزمان کو پکڑنا ہے، اگر وہ یہ کام نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے؟ پنجاب حکومت نے یہ نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

عدالت نے آئی جی پنجاب سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، یہ وردیاں اتار کر گھر بھیجوں گا، دیکھتا ہوں آیا کہ آئی جی پنجاب کی تقرری بھی قانون کے مطابق ہوئی ہے؟

چیف جسٹس نے قبضے کے معاملے پر ریمارکس دیے کہ 2003 میں معاہدہ ہوا لیکن ابھی تک قبضہ نہیں دیا گیا، پولیس والے اس ملک میں قبضہ گروپ کا کام کر رہے ہیں۔ اگر پولیس قبضہ گروپ بن جائے گی تو کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

عدالت نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ جو متبادل جگہ آپ نے لی اس کا کیا کیا؟ آئی جی پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی یا صوبائی حکومت کی زمین کو ہم ٹرانسفر کرنے کے مجاز نہیں۔

عدالت نے 24 گھنٹے میں 72 کنال زمین فوری واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے پولیس کو مخاطب کیا کہ سڑکیں آپ سے سنبھالی نہیں جاتیں، زیادتیاں ہورہی ہیں، اشتہاری گھوم رہے ہیں۔

آئی جی پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ وفاقی حکومت کی نہیں بلکہ ٹرسٹ کی زمین ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مجھے یہ بتائیں کہ پولیس نے قبضہ کس طرح کیا ہے؟

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو کہا کہ شکر کریں آپ کو خفیہ جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ آپ اپنے کلائنٹ سے پوچھ لیں اور درخواست دیں۔ یہ حکومت پولیس کی آلہ کار بن سکتی ہے لیکن عدالتیں نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کی جانب سے زمین پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت 3 نومبرتک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی 72 کینال 6 مرلہ اراضی پر ایلیٹ ٹریننگ سینٹر بنایا گیا ہے اور املاک بورڈ کی اراضی کے بدلے میں محکمہ پولیس نے 72 کینال اراضی دی۔

Tags: آئی جی پنجابپنجاب پولیسعابد ملہیلاہور ہائی کورٹ
sohail

sohail

Next Post

بنگلہ دیش رواں برس فی کس آمدنی میں بھارت سے آگے بڑھ جائے گا، آئی ایم ایف

پاکستان میں عوام کے لیے الیکٹرک بائیک متعارف، میٹرو اسٹیشن کے باہر میسر ہو گی

کورونا وبا کے دوران امریکہ، یورپ میں سائیکل چوری کے واقعات میں بڑا اضافہ

ٹک ٹاک پر پابندی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

جرمنی بھی کورونا کی دوسری لہر کا شکار، ایک ہی دن میں 5 ہزار کیسز رپورٹ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In