ٹک ٹاک کی بندش کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
ٹک ٹاک کی بندش کے خلاف رٹ پٹیشن کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ 15 اکتوبر کو کریں گے۔
درخواست ایڈووکیٹ اسامہ خاور گھمن کے توسط سے مارشل آرٹس سے تعلق رکھنے والے محمد اشفاق جٹ کی جانب سے دائر کی گئی۔
پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی
فواد چوہدری نے ٹک ٹاک سے پابندی ہٹانے کے لیے وزیراعظم کو خط لکھ دیا
درخواستگزار کا موقف ہے کہ وہ ٹک ٹاک اپنے ہنر کی نمائش اور پروموشن کے لیے استعمال کر رہا ہے جس سے اسے پیسے کمانے کے مواقع ملتے ہیں۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ کہ ٹک ٹاک سے اس کی کمائی میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے تاہم حکومت کی جانب سے بندش کے بعد اسکی کمائی بری طرح متاثر ہوا ہے جس سے اس کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
آج وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق نے کہا کہ میں ایسی پابندی کی خلاف ہوں جس سے ترقی کو عمل رک جائے، ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ ملکر بات چیت ہو رہی ہے، میکینزم طے ہونے پر اسے کھول دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ زمانہ تیزی سے بدل رہا ہے اور ہر روز نئی ٹیکنالوجی جگہ بنا رہی ہے، ہم جس بحران سے گزر رہے ہیں ہمیں سرمایہ کاری کی بہت ضروری ہے۔
یاد رہے کہ نامناسب مواد نہ ہٹانے پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹک ٹاک کو ملک میں بند کردیا تھا۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک دی گئی مدت کے دوران ایپلی کیشن سے نامناسب اور متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکام رہا، جس وجہ سے اسے پاکستان میں بند کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ ایپ کی انتظامیہ کو بار بار متنازع اور ناشائستہ مواد ہٹانے کی ہدایت کی گئیں مگر ان پر عمل نہیں ہوا۔