جرمنی میں ایک دن میں کورونا کے مثبت کیسز کی تعداد 5 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو اپریل کے بعد سے اب تک ریکارڈ اضافہ ہے۔
5132 نئے کیسوں کے ساتھ کورونا کے کل کیسز کی تعداد34 ہزار 585 ہو گئی ہے۔
متعدی بیماریوں سے متعلق اعداد و شمار رکھنے والے ادارے رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ نے ایک دن میں 43 افراد کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔
جرمنی کی مختلف ریاستوں کے سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کورونا سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو ملک کے دوسرے حصوں میں جانے کی اجازت نا دی جائے تاکہ بیماری کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
کچھ ریاستوں کے اسکولوں میں موسم خزاں کی چھٹیوں کے باعث فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے وزیراعظم آرمن لیسچٹ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ تمام ریاستوں کے سربراہان کورونا کے حوالے سے کسی ایک حل پر اتفاق کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر کورونا سے نمٹنے کے لیے متفقہ اصول بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ 7 دنوں میں کورونا کے زیادہ کیسز سامنے آرہے ہیں۔
ریاست باواریا کے سربراہ مارکس سوئیڈر کا کہنا تھا کہ اگلے 4 ہفتے جرمنی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، ان دنوں میں اٹھائے گئے اقدامات اس بات کا تعین کریں گے ہم کرسمس کو پرسکون انداز میں منا سکیں گے یا نہیں۔
واضح رہے جرمنی کی حکومت کورونا سے زیادہ متاثر ہونے والے سیکٹرز کے لیے نئے اقدامات کر رہی ہے۔ ہوٹل اور کیٹرنگ سروس کو زیادہ توجہ دینے کے ساتھ ساتھ حکومت عوام کو مختصر مدت کے لیے قرضہ بھی فراہم کر رہی ہے۔