موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کے متعلق قیاس آرائیوں اور متضاد بیانات کے بعد ایک اور رخ سامنے آ گیا ہے۔
اس سے قبل پولیس نے عابد کی گرفتاری کا کریڈٹ خود لیا تھا اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پولیس کے لیے 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم اس دوران ملزم کے والد اکبر علی کا بیان سامنے آیا جس کے مطابق عابد ملہی نے خود کو پولیس کے حوالے کیا تھا۔
پہلے انہوں نے کہا کہ عابد ملہی نے خود گرفتاری دی ہے تاہم بعد ازاں موقف تبدیل کرتے ہوئے یہ بتایا کہ ملزم چھپ کر گھر پہنچا تو ہم نے پولیس کو اطلاع دی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کے آنے کے بعد خالد بٹ نامی ایک ہمسائے نے اپنی گاڑی میں ملزم کو تھانے پہنچایا۔
اب خالد بٹ نے جیو نیوز کو تفصیل بتائی ہے جس کے مطابق ملزم عابد کو پولیس نے بہت محنت کے بعد قابو کیا۔ پولیس اہلکار کئی روز سے عابد کے گھر کے قریب موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جب عابد گھر پہنچا تو ان پولیس والوں نے اسے گرفتار کر لیا، اس دوران پولیس نے دو بار ہوائی فائر بھی کیا۔
خالد بٹ کے مطابق پولیس کے پاس گاڑی موجود نہیں تھی اس لیے انہوں نے اپنی گاڑی میں ملزم اور پولیس والوں کو بٹھا کر تھانے پہنچایا۔
یاد رہے کہ موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو واردات کے ایک ماہ اور 3 دن بعد 12 اکتوبر کو لاہور کے نواحی علاقے مانگا منڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملزم کی گرفتاری کے لیے سائنٹیفک طریقے استعمال کیے گئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں نے بھی پولیس کی معاونت کی۔
آئی جی پنجاب انعام غنی کا بھی کہنا ہے کہ ملزم عابد کو حکمت عملی سے گرفتار کیا گیا۔