• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

نوازشریف کے الزامات، سابق آئی ایس آئی چیف ظہیرالسلام نے خاموشی توڑ دی

by sohail
اکتوبر 15, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد: میاں نواز شریف کے الزامات کے بعد آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے بھی خاموشی توڑ دی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے کبھی نواز شریف سے استعفیٰ طلب نہیں کیا۔

دی نیوز میں شائع خبر کے مطابق انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کو کوئی پیغام بھیجا تھا۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2014 کے دھرنوں کے وقت حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج سے سیاسی انداز میں نمٹے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں نوازشریف نے دعویٰ کیا تھا کہ  2014 کے دھرنوں کے موقع پر انہیں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیرالسلام نے آدھی رات تک استعفیٰ دینے کا پیغام بھیجا تھا۔

نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی اراکین کو بتایا کہ انہیں ایک سول شخصیت کے ذریعے یہ پیغام بھیجا گیا تھا اور اس میں مزید کہا گیا تھا کہ اگر انہوں نے استعفیٰ نہ دیا تو اس کے نتیجے میں مارشل لا بھی نافذ ہو سکتا ہے۔

نوازشریف کے مطابق انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو چاہیں کر لیں، میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔

یاد رہے کہ 2015 کے اواخر میں اس وقت کے وزیردفاع خواجہ آصف نے بھی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیرالسلام کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے میں ان کی آشیرباد کا ذکر کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کے خلاف تیار کیا گیا لندن پلان جنرل پاشا اور جنرل ظہیرالسلام کا مشترکہ منصوبہ تھا۔

بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنماء مشاہدہ اللہ خان کو اس وقت استعفیٰ دینا پڑا تھا جب انہوں نے ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو کے پاس ایسی ٹیلی فون ریکارڈنگز موجود ہیں جن سے 2014 کے دھرنوں کے پیچھے جنرل ظہیرالسلام کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔

Tags: جنرل ظہیرالسلامنواز شریف
sohail

sohail

Next Post

کس قانون کے تحت یوٹیوب چینل چل رہے ہیں؟ لاہور ہائیکورٹ کا برہمی کا اظہار

آج تک نہیں سنا کہ کسی بھائی نے اپنی بہن کو زمین گفٹ کی ہو، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

سوزوکی کمپنی نے پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

شمالی وزیرستان، دہشت گردوں کے حملے میں کیپٹن سمیت 6 فوجی شہید

حکومت جتنے مرضی کمیشن بنائے مگر عدالتی کمیشن کو نہیں چھیڑ سکتی، چیف جسٹس گلزار احمد

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In