سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ازخودنوٹس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اقلیتوں کیلئے حکومتی کمیشن کی تشکیل پر اظہار برہمی کیا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت پہلے ایک کمیشن بنا چکی ہے تو حکومت نے نیا کمیشن کیسے بنا دیا؟
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس معاملے پر مجھے بھی ابہام ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت جتنے مرضی کمیشن بنائے مگر عدالتی کمیشن کو نہیں چھیڑ سکتی۔
بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ حکومت دوسرے کاموں کیلئے جتنے مرضی کمیشن بنائے مگر ایک دوسرے کے راستے میں نہیں آنا چاہئے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیا کمیشن کس کے ماتحت ہے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن وزارت مذہبی امور کے ماتحت ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی مذہبی امور سیکرٹری کو بلا کر معلوم کر لیتے ہیں کہ کمیشن کیسے بنا۔
عدالت نے نئے کمیشن کی تشکیل پر سیکرٹری مذہبی امور کو فوری طلب کرتے ہوئے کہا کہ وقفے کے بعد سیکرٹری مذہبی امور عدالت میں موجود ہوں۔
وقفہ کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو وزارت مذہبی امور کے جوائنٹ سیکریٹری ارشد فرید نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹری اسلام آباد سے باہر ہیں اس لیے پیش نہیں ہوئے۔
عدالت نے وزارت مذہبی امور کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہمیں مفصل رپورٹ دیں جس میں تمام چیزوں کی معلومات ہوں، آپ نے کمیشن تو بنا دیا ہے مگر اس نے کیا کام کیا وہ بھی بتائیں۔
چیف جسٹس نے وزارت مذہبی امور کے نمائندے کو کہا کہ آپکو بتانا ہو گا کہ کس علاقے میں کون کون سی کمیونٹی رہتی ہے، یہ بھی بتائیں کہ کس کمیونٹی کو کیا فائدہ ہو رہا ہے۔؟
بینچ کے ایک اور رکن جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کمیشن مینڈیٹ کے مطابق کام کرے۔
ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور ارشد فرید خان نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے اس سلسلے میں نئی تعیناتیاں کی ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ تو بتائیں کس گوردوارے، کس مندر میں کون لوگ تعینات کیے ہیں، ایسے کام نہیں ہو گا کہ صرف کمرے میں بیٹھ کر لکھ دیا کہ کام ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کہیں چینی سستی کر دی ہے اور مارکیٹ میں 105 روپے ملے تو اس کا کیا فائدہ، ہم نے اپنے فیصلے میں جن چیزوں کی نشاندہی کی ہے ان پر کام ہونا چاہیے، اگر تعلیمی نصاب میں تبدیلی کی گئی ہے تو اس بارے میں بھی بتائیں، اب تو پورے ملک میں ایک تعلیمی نصاب ہونے جا رہا ہے۔
سماعت میں ہندو کونسل کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نئے نصاب میں اتنا مذہبی مواد ڈالا گیا ہے کہ بچوں کے لیے سمجھنا مشکل ہو جائے گا۔
سماعت کے موقع پر حکومتی ایم این اے رمیش کمار بھی عدالت میں پیش ہوئے اور حکومتی پالیسی پر عدالت میں تنقید کی۔
رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ میں وفاق میں موجود ہوں لیکن وزارت مذہبی امور ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی، اگر وزارت مذہبی امور کا یہی رویہ رہا تو کام نہیں ہو گا، چاروں صوبوں کے چیف منسڑز نے کہا تھا کہ وہ عدالتی فیصلے میں ہمارے ساتھ ہیں۔
عدالت نے ایک ہفتے میں اقلیتی کمیشن سے متعلق وزارت مذہبی امور سے تفصیلی رپورٹ طلب کر تے ہوئے اقلیتی کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل سمیت سیکرٹری مذہبی امور اور سیکرٹری تعلیم کو بھی طلب کر لیا اور ہدایات جاری کیں کہ بتایا جائے کہ عدالتی فیصلے کے تناظر میں کمیشن نے ابھی تک کیا کام کیے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کردی۔