سابق وزیراعظم نواز شریف نے سابق آئی ایس آئی چیف جنرل (ر) ظہیرالاسلام پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے 2014 کے دھرنوں کے دوران انہیں استعفیٰ دینے کا کہا تھا۔
آج دی نیوز میں شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا کہ جنرل (ر) ظہیرالاسلام نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے نوازشریف کو ایسا کوئی پیغام نہیں دیا تھا۔
نوازشریف کے دعوے کے بعد پاکستانی میڈیا میں بھی اس موضوع پر گفتگو شروع ہوئی تو بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کا نام سامنے آیا کہ مبینہ طور پر انہوں نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا پیغام نوازشریف تک پہنچایا تھا۔
تاہم ملک ریاض اس موضوع پر خاموش رہے اور انہوں نے نہ ہی تردید کی اور نہ ہی اس کی توثیق کی۔
آج سینیئر اینکر رؤف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ملک ریاض سے رابطہ کر کے اس حوالے سے بات کی ہے۔
ملک ریاض نے جواب میں کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا کہ وہ تیسرا آپشن لیتے ہیں اور اس معاملے پر کوئی کمنٹ نہیں کرنا چاہتے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق جب کوئی کمنٹ کرنے سے انکار کر دے تو صحافت میں اس کا مطلب عموماً تصدیق ہی سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ملک ریاض نے نوازشریف کو جنرل (ر) ظہیرالاسلام کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے پنجابی میں انہیں جواب میں کہا کہ "ملک صاحب تسی انہاں نو کوو کہ جا کے تسی سو جاؤ، آرام دی رات گزارو تسی (ملک صاحب انہیں جا کر کہہ دو کہ آپ سو جائیں اور آرام سے رات گزاریں)