کراچی : پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما راشد ربانی دو مرتبہ کورنا کا شکار ہوئے ہیں اور دوسری مرتبہ وہ جان کی بازی ہار گئے، یہ پاکستان میں کورونا سے دو بار متاثر ہونے کے بعد انتقال کر جانے کا پہلا کیس ہے۔
68 سالہ راشد ربانی کو گزشتہ ہفتے کورونا کی علامات ظاہر ہونے کے بعد ضیاالدین اسپتال لایا گیا تھا، ان کی حالت تشویشناک تھی۔ انہیں فوری طور پر وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا مگر ان کی حالت بگڑتی گئی اور وہ انتقال کر گئے۔
دنیا میں پانچواں شخص دوسری بار کورونا کا شکار، ہرڈ ایمیونٹی پر سوالیہ نشان
ماضی کی وبائیں اور کورونا کی دوسری لہر کا خدشہ
کورونا سے دوسری مرتبہ متاثر ہونے والے مزید کیسز بھی پاکستان میں رپورٹ ہوئے ہیں، آغا خان یونیورسٹی اسپتال اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ایسے کئی افراد لائے گئے ہیں جن کا دوسری مرتبہ کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے تاہم ان تمام کی حالت بہتر ہے۔
ڈاکٹر عاصم نے کہا ہے کہ راشد ربانی مئی میں کورونا سے صحتیاب ہو گئے تھے، ان میں پہلی بار کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں بلکہ ٹیسٹ کے نتیجے میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اور خاص طور پر کراچی شہر میں کورونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے مریضوں کی حالت سیریس اور پیچیدہ ہے اور زیادہ تر کو انتہائی نگہداشت یونٹ اور وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑتا ہے۔
راشد ربانی کے دوست وقار مہدی نے بھی تصدیق کی ہے کہ پی پی رہنما مئی میں کورونا میں مبتلا ہوئے تھے اور ان کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ راشد ربانی میں کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں اور وہ ایک ہفتہ اسپتال رہنے کے بعد صحتیاب ہو گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے خون میں اینٹی باڈیز نہیں ملی تھیں اس لیے ڈاکٹروں نے انہیں محتاط رہنے اور ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
آغا خان میڈیکل کالج میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر فیصل محمود نے دی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو مرتبہ کورونا کا شکار ہونا عین ممکن ہے، ہمارے اسپتال میں بھی ایسے مریض آ رہے ہیں البتہ یہ کہنا فی الوقت ممکن نہیں کہ دوسری بار کورونا میں مبتلا ہونا کسقدر سنگین ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ خون میں کورونا کے خلاف اینٹی باڈیز کا ہونا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ایسا شخص کورونا میں دوبارہ مبتلا نہیں ہو سکتا۔
ڈاؤ یونیورسٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے کورونا کا دوسری مرتبہ شکار ہونے والے 3 سے 4 مریض دیکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے مریضوں پر کورونا وائرس کا دوسرا حملہ شدید ہوتا ہے۔