• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

سی سی پی او لاہور ایک بار پھر موضوع بحث، ڈپٹی ڈائرکٹر نیب کی معافی

by sohail
اکتوبر 15, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) رانا تنویر حسین کی طرف سے پیش کی گئی استحقاق کا معاملہ زیر بحث رہا۔

لاہور نیب میں مریم نواز کی پیشی کے دوران رانا تنویر حسین قومی اسمبلی کے اجلاس میں شامل تھے مگر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب کی طرف سے کرائی گئی ایف آئی آر میں ان کا نام بھی شامل کر دیا گیا تھا جس پر رانا تنویر حسین کا معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا تھا۔

کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ نیب کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر سے چیئرمین پی اے سی رانا تنویر کا نام خارج کردیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی استحقاق کمیٹی نے ڈپٹی ڈائریکٹرسیکیورٹی نیب چوہدری اصغر کی طرف سے مانگی گئی غیر مشروط معافی قبول کر لی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ طبیعت ناسازی کی وجہ سے سی سی پی او لاہور استحقاق کمیٹی میں پیش نہیں ہو سکے۔ کمیٹی نے سی سی پی او کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے کہا کہ نیب نے جو نام دیے تھے اس پر ایف آئی آر درج ہونی تھی۔ رانا تنویر نے سوال اٹھایا کہ نیب سے پوچھیں، نام کیسے دیے؟

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی سفارش کے باوجود تاخیر سے ایف آئی آر سے نام نکالا گیا۔ ایس ایس پی لیگل لاہور نے بتایا کہ ایف آئی آر سے نام نکالنے کا ایک طریق کار ہوتا ہے، اس لیے وقت لگا۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ چیئرمین کمیٹی اور ہم سب آباؤ اجداد سے پولیس کو ڈیل کر رہے ہیں۔ آپ پراسیس کا کہہ رہے ہیں؟ کیا پراسیس ہوتا ہے؟

انہوں نے ایس ایس پی لیگل لاہور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں چکر دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ایس ایس پی لیگل کی بجائے ڈی آئی جی کو کمیٹی میں بھیجتے، چیئرمین کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ ایس ایس پی صاحب! آپ کو قربانی کا بکرا بنا کر بھیج دیا گیا ہے۔

 ڈپٹی ڈائریکٹر نیب چوہدری اصغر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ مریم نواز کی پیشی کے روز بہت ہجوم تھا، تناؤ کا عالم تھا، فیلڈ اسٹاف اور پولیس افسران کی طرف سے معلومات اکٹھی کی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رانا تنویر حسین کا نام غیر ارادی طور پرغلطی سے شامل ہوا، یہ انسانی غلطی ہے۔ محسن نواز رانجھا نے کہا کہ کیا ہم سیاستدانوں کی کوئی عزت نہیں، رانا تنویر حسین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیا نوری کی ہی عزت ہے، خاکی کی کوئی عزت نہیں۔

رکن کمیٹی محسن نواز رانجھا نے کہا کہ پارلیمان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آرز درج کرانے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ ارکان اسمبلی کے خلاف جھوٹے تبصرے، جھوٹی خبریں لگانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

محسن نواز رانجھا نے کہا کہ ہم تو یہاں زمینیں بیچ کر آتے ہیں، جب سے سیاست میں آیا، جائیدا د کم ہوئی ہے۔

ارکان کمیٹی نے کہا کہ سی سی پی او کو بلوائیں جنہوں نے سیاستدانوں کے خلاف دہشتگردی کے پرچے دیے۔

محسن نواز رانجھا نے سوال اٹھایا کہ سی سی پی او نے ایس ایس پی لیگل کو کیوں بھیجا؟ چیئرمین کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ سی سی پی او کی طبیعت ناساز تھی۔ محسن نواز رانجھا نے کہا کہ یہ ذرا چیک کرا لیں کہ کیا سی سی پی او نے آج چھٹی کی ہے؟

ارکان کمیٹی استحقاق کمیٹی نے کہا کہ جو بھی آتا ہے ہاتھ جوڑ کر معافی لے کر چلا جاتا ہے، کب تک معافی دیتے رہیں گے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ جب کوئی معافی جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے تو میں خود پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔ میں بہت دھیمے مزاج کا آدمی ہوں

کمیٹی نے محرک اوررکن کمیٹی علی نواز شاہ کی تحریک استحقاق پر سیکرٹری ہیلتھ اور سیکرٹری ایجوکیشن سندھ کو طلب کر لیاہے۔

علی نواز شاہ نے کہا کہ میں نے 50 کے قریب فون کیے مگر سیکرٹری ہیلتھ اور سیکرٹری ایجوکیشن سندھ نے فون نہیں سنا۔ ہر بار یہی کہا گیا کہ وہ میٹنگ میں ہیں۔

علی نواز شاہ کا فون نہ سننے پر علی محمد خان نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ محسن نواز رانجھا نے کہا کہ میں صبح سے اپنے حلقے کے 50 کے قریب لوگوں کے فون سن کر آیا ہوں۔ الیکشن کے دوران ہم سے فون نہ سننے کا سب سے زیادہ شکوہ کیا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی استحقاق کمیٹی نے ہدایات کر دی ہیں کہ جس ایم این اے کو سیکیورٹی کی ضرورت ہو اسے فوری طور پر 2 اہلکار فراہم کیے جائیں۔

چیئرمین کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ کراچی میں ایم این ایز کو گولیاں لگیں، سندھ کے ایم پی اے کو گولیاں لگیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں 54 ایم این ایز اور ایم پی ایز جبکہ پنجاب میں 98 ایم این ایز اور ایم پی ایز کو سیکیورٹی فراہم کی گئی۔

کمیٹی نے 98 ایم این ایزا ور ایم پی ایزکے ناموں کی تفصیلات طلب کر لیں جن کو پنجاب میں سیکیورٹی فراہم کی گئی

رکن اسمبلی شازیہ مری نے کمیٹیوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کا مطالبہ کر دیا جس پر قومی اسمبلی استحقاق کمیٹی نے تمام پارلیمانی پارٹی کے ہیڈز/چیف وہپ کوآئندہ میٹنگ میں بلوا لیاہے۔

Tags: ڈپٹی ڈائرکٹر نیبرانا تنویر حسینسی سی پی او لاہور
sohail

sohail

Next Post

گوجرانوالہ میں اپوزیشن کا جلسہ، تیاریاں مکمل، کارکنوں کی آمد جاری

پی پی رہنما پاکستان میں کورونا میں دو مرتبہ مبتلا ہو کر انتقال کر جانے کا پہلا کیس

نجکاری فہرست سینیٹ میں پیش، پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل بھی شامل

این آر او پر آج عمران خان اور فضل الرحمان نے کیا کہا؟

بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے کینسر میں مبتلا ہونے کی تصدیق کر دی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In