• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کس قانون کے تحت یوٹیوب چینل چل رہے ہیں؟ لاہور ہائیکورٹ کا برہمی کا اظہار

by sohail
اکتوبر 15, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے سوشل میڈیا سے عدلیہ کی توہین پر مبنی مواد نہ ہٹانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ یوٹیوب چینل کس قانون کے تحت چل رہے ہیں؟

سوشل میڈیا سے توہین آمیز مواد نہ ہٹانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے بغیر میکنزم کے یوٹیوب چینلز چلانے کا نوٹس لے لیا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کے خلاف یوٹیوب پر زبان درازی کی جا رہی ہے، ان چینلز کو کون مانیٹر کرتا ہے؟

سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا، یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس

پی ٹی اے، آئی ایس پیز کے درمیان غیراخلاقی مواد دکھانے پر تنازعہ جاری

انہوں نے دریافت کیا کہ اب تک ایف آئی اے نے کتنے مقدمات درج کیے اور کتنے ملزمان گرفتار کیے؟

عدالت نے ایف آئی اے سے فوری تفصیلات طلب کرتے ہوئے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا یہ سب کچھ حکومتی سرپرستی میں ہو رہا ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شکایت ملنے پر کارروائی کی جاتی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا اب عدلیہ کے جج ایف آئی اے کو شکایت درج کرائیں گے؟

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایف آئی اے کا ادارہ ہی بند کر دیں۔

انہوں نے مزید دریافت کیا کہ کس قانون کے تحت یوٹیوب چینل کا لائسنس جاری ہوتا ہے اور اسے کون سا ادارہ جاری کرتا ہے؟

یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بھی عدلیہ کی تضحیک پر مبنی مواد یوٹیوب چینلز پر دکھانے کا نوٹس لے چکی ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی امین نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے دیکھا ہے یوٹیوب پر کیا ہو رہا ہے، سوشل میڈیا پر ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا۔

انہوں نے کہا تھا کہ کوئی یوٹیوب پر چاچا تو کوئی ماما بن کر بیٹھ جاتا ہے، گزشتہ روز ہم نے فیصلہ دیا اور وہ یوٹیوب پر شروع ہو گیا۔

Tags: ایف آئی اےلاہور ہائیکورٹیوٹیوب چینل
sohail

sohail

Next Post

آج تک نہیں سنا کہ کسی بھائی نے اپنی بہن کو زمین گفٹ کی ہو، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

سوزوکی کمپنی نے پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

شمالی وزیرستان، دہشت گردوں کے حملے میں کیپٹن سمیت 6 فوجی شہید

حکومت جتنے مرضی کمیشن بنائے مگر عدالتی کمیشن کو نہیں چھیڑ سکتی، چیف جسٹس گلزار احمد

نیشنل ٹی ٹونٹی کپ، کھلاڑی سے بکی کے رابطے کا انکشاف

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In