اسلام آباد: وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے چیئرمین اسد عمر نے کہا ہے کہ اگر کورونا وائرس سے بچاؤ کے ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
اپنی ٹویٹ میں انہوں نے بتایا کہ ملک میں کورونا وائرس کے بڑھنے کے واضح اشارے ملے ہیں، گزشتہ روز ملک میں 2.37 فیصد کیسز مثبت آئے جو 50 دن میں سب سے زیادہ مثبت شرح ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ آخری بار کورونا مثبت کیسز کا یہ رجحان 23 اگست کو دیکھا گیا تھا جبکہ رواں ہفتے کے پہلے 4 دن کورونا سے روزانہ 11 اموات ہو رہی ہیں جو کہ 10 اگست کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مظفرآباد اور کراچی میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح زیادہ ہے جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں بھی اس وبا کے بڑھنے کے اشارے ملے ہیں۔
اسد عمر نے کہا کہ اگر ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو پابندیوں جیسے سخت اقدامات کرنے پڑیں گے جس سے کاروبار زندگی متاثر ہو گا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا کی پہلی لہر سے بہت زیادہ نقصان نہیں ہوا اور دیگر ممالک کی نسبت اس پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا، مجموعی کیسز میں 95 فیصد افراد صحتیاب ہو چکے ہیں تاہم دوسری لہر کا خدشہ موجود ہے جس کی طرف وزیراعظم عمران خان کئی بار اشارہ کر چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے بھی دنیا بھر میں کورونا کی دوسری لہر سے خبردار کیا ہے، اس وقت یورپ میں کورونا نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھا لیا ہے اور بہت سے ممالک نے پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے 755 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد 3لاکھ 21ہزار218 ہوگئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران اس وبا کے ہاتھوں مزید 13 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جس کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 6 ہزار 614 ہو گئی ہے۔