پولیس نے موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا مگر اب ملزم کے والد نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کے بیٹے نے خود گرفتاری دی ہے۔
ملزم کے والد اکبر علی نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا شام ساڑھے 6 بجے مانگا منڈی آیا تھا جس کے بعد گھر والوں نے پولیس کو اطلاع کر دی تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عابد نے ایک ماہ بعد انہں فون کیا اور کہا کہ وہ پولیس کو گرفتاری دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عابد ملہی کو ایک مقامی شہری خالد بٹ کی موجودگی میں پولیس کے حوالے کیا گیا تھا اور اسی کی گاڑی میں اسے سی آئی اے مرکز بھجوایا گیا تھا۔
اکبر علی نے کہا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر کی خواتین کو بھی رہا کیا جائے۔
عابد ملہی کی گرفتاری کے وقت کی تصاویر
ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کے وقت کی تصاویر بھی سامنے آ گئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اس نے اپنا حلیہ تبدیل کر لیا تھا۔
اس نے حلیہ بدلنے کے لیے داڑھی رکھ لی تھی جس کی وجہ سے پہلے والی تصاویر سے وہ یکسر مختلف نظر آ رہا ہے۔

اس سے قبل پولیس نے ملزم عابد ملہی کو فیصل آباد سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، پولیس کا کہنا تھا کہ اسے پکڑنے کے لیے جدید سائنسی طریقے استعمال کیے گئے، اس کی گرفتاری میں قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے بھی معاونت کی تھی۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی نے ملزم کو گرفتار کرنے والی ٹیم کیلئے 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔