حکومت پاکستان کی جانب سے سیٹیزن پروٹیکشن رولز میں ترامیم کے بعد نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں جنہیں رموول اینڈ بلاکنگ ان لا فل آن لائن کنٹینٹ 2020 کا نام دیا گیا ہے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق نئے قوانین کو منظور کر لیا گیا ہے۔
یہ قوانین پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے سیکشن 37 کے تحت منظور کیے گئے ہیں۔
وزارت آئی ٹی کے مطابق ان قوانین کا فوی طور پر اطلاق کرایا جائے گا۔
ان قواعد و ضوابط کے مطابق سوشل میڈیا پر نازیبا مواد شیئر کرنے یا گمراہ کن معلومات پھیلانے پر پابندی عائد ہوگی۔
نئے قوانین کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسا مواد شیئر کیا جائے گا جس میں ملکی سلامتی اور دفاع کے خلاف پروپیگنڈا نا کیا گیا ہو۔
توہین مذہب یا رسولوں کی توہین سے متعلق کسی قسم کا مواد شیئر کرنے پر بھی پابندی ہوگی نیز دہشت گردی اور انتہا پسندی سے متعلق کسی قسم کا مواد سوشل میڈیا پر نہیں شیئر کیا جا سکتا۔
سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کو اس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ وہ ملک میں اپنے نمائندوں کو تعیناتی کو یقینی بنائیں، جس کے بعد اگلا قدم ان کے دفاتر کھولنے کا ہوگا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے رواں برس کے آغاز میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق قوانین متعارف کرائے تھے جس پر انسانی حقوق کے اداروں سے سمیت کئی پلیٹ فارمز کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
تنقید کے بعد وفاق کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ متعلقہ قوانین میں ترامیم کے بعد نئے قوانین جاری کیے جائیں گے۔