ندیم افضل چن نے کابینہ اجلاس کے دوران شوگر انکوائری کمیشن کو ایک فراڈ قرار دے دیا۔
ندیم افضل چن نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شوگر کمشن میں صرف ان کو فکس کیا گیا جو ہمیں پسند نہ تھے۔ ہم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خود انکوائری کرائی اور خود چور بن بیٹھے۔
انہوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شوگر اسکینڈل کے نام پر صرف چند لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور وہ ایسے لوگ ہیں جو ہمیں پسند نہ تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے حلقے میں نواز لیگ کے حامیوں کی 3 شوگر ملیں ہیں، ایک کی بھی انکوائری نہیں ہوئی۔
ندیم افضل چن نے کابینہ میں سوال اٹھایا کہ صرف چند مل مالکان کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ حیرانی کی بات ہے ہم نے خود انکوائریاں کرائیں اور الزام بھی ہم پر لگ گیا
ندیم افضل چن نے شہزاد اکبر پر چڑھائی کرتے ہوئے کہا کہ شوگر مافیا کے خلاف پہلی دفعہ کارروائی ہوئی لیکن ہمارے گلے پڑگئی۔ گندم کی اسمگلنگ ہوئی اور کوئی قدم نہ لیا گیا۔ یہ اچھی انکوائری اور کارروائی تھی کہ چینی کی قمیت 50 روپے بڑھ گئی۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ ہم کیسے چینی چور اور آٹا چور بن بیٹھے۔ شہزاد اکبر نے جواب دینے کی کوشش کی تو وزیراعظم عمران خان نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نے ندیم افضل چن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلسوں والی تقریر کابینہ اجلاس میں نہیں ہوتی۔ جس پر ندیم افضل چن نے کہا کہ جناب یہ میرے دل کی آواز ہے جلسے کی تقریر نہیں ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شیخ رشید نے پھر گندم کی سپورٹ پرائس بڑھانے کی مخالفت کر دی جس پر ندیم افضل چن نے کہا کہ ہم غیرملکی کسانوں سے مہنگی گندم خرید رہے ہیں، اپنے کسان کو قیمت نہیں دیتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابھی بھی ہم گندم کی قیمت بڑھانے میں دیر کر رہے ہیں۔ ہم نے کپاس کی اسپورٹ پرائس نہیں بڑھائی تو اس سال فصل کم ہوئی اور ملک کو نقصان ہوا۔
یاد رہے کہ کاٹن سپورٹ پرائس کی مخالفت خسرو بختیار اور رزاق داؤد نے کی تھی۔