عراق کے ایک سرکاری بینک نے دوسری شادی کے خواہشمند افراد کرنے والے ملازمین کو 8 ہزار 400 امریکی ڈالرز دینے کا اعلان کیا ہے، پاکستانی روپوں میں یہ رقم 13 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے جبکہ عراقی کرنسی میں یہ رقم تقریباً ایک کروڑ روپے دینار بنتی ہے۔
عرب ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ اسکیم عراق میں موجود ایک سرکاری بینک نے اپنے ملازمین کے لیے نکالی ہے، یہ رقم قرض کی صورت میں ہوگی جو آسان اقساط میں بینک کو واپس کرنی ہوگی۔
معروف بینک الرشید نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہر شخص کو دوسری شادی پر بینک سے 8 ہزار 400 امریکی ڈالر کا قرضہ ملے گا۔ بینک نے ساتھ میں یہ بھی شرط رکھ دی کہ دوسری شادی کرنے اور قرض لینے والے ملازم نے پہلے کبھی قرض نہ لیا ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ بینک نے یہ بھی شرط عائد کردی ہے کہ ملازم اس بینک میں کم از کم 2 سال سے ملازمت کر رہا ہو۔
بینک الرشید عراقی ریاست کی ملکیت ہے اور ملک کا سب سے بڑا بینک سمجھا جاتا ہے۔
ایک اور ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس وقت عراق میں نوجوانوں میں شادی کرنے کا رجحان کم ہوتا جارہا ہے۔ نوجوان معاشی حالات سے تنگ آکر شادی سے متعلق نہیں سوچ رہے جبکہ کئی ایسے بھی ہیں جو بیرونِ ملک جاکر کام کرنے میں مصروف ہیں۔
مذکورہ حالات کے تناظر میں یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں ہیں کہ عراق میں معمر کنواری خواتین کی تعداد 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے میں نجی بینک کی جانب سے کم از کم اپنے ملازمین کے لیے مذکورہ اسکیم کو خوش آئند قرار دیا جارہا ہے۔