سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے احتساب عدالتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کرپشن سے متعلق کیسوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے احتساب عدالتوں میں ٹرائلز کی تاخیر پر سوموٹو کیس پر 3 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ نیب تفتیش پر برہم، 120 احتساب عدالتیں جلد شروع کرنے کا حکم
ملک میں احتساب کے نام پر تباہی ہو رہی ہے، سپریم کورٹ
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ شواہد ریکارڈ کرنے کے عمل کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔
احتساب عدالتوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے عدالت عظمی کا کہنا تھا کہ مقدمات میں التوا لائے بغیر فیصلے جلد سنائے جائیں۔
عدالت نے چیئرمین نیب کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نیب استغاثہ کے گواہان کی حاضری یقینی بنائی جائے۔
سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کراچی کو حکم دیا ہے کہ لاکھڑا پاور پلانٹ میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کو انجام تک پہنچائے۔
12 اکتوبر کو وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس سے کرپشن کیسزکو روزانہ کی بنیاد پر سننے کے لیے احکامات کی استدعا بھی کی تھی ۔
وزارت انصاف اور قانون نے احتساب عدالتوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں 24 احتساب عدالتیں کام کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کے لیے منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور اس کا مسودہ وزیراعظم ہاؤس بھجوا دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق احتساب کی ایک عدالت کے لیے سالانہ 23.87 ملین روپے درکار ہیں۔
اس سے قبل بھی لاکھڑا پاور پلانٹ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو کرپشن مقدمات میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے تھے کہ کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا آغاز ہی نیب کے دفتر سے ہوتا ہے۔
اپنے ریمارکس میں جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسران قانونی پہلووں سے نابلد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کارروائی برسوں تک چلتی رہتی ہے۔
سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کیسوں کے لیے ایک گواہ کافی ہوتا ہے لیکن یہاں پچاس گواہ بلا لیے جاتے ہیں۔
عدالت عظمی کے ریمارکس کے بعد چیئرمین نیب کی جانب سے وضاحتی جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا تھا۔
اپنے بیان میں چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ پچاس پچاس گواہان بلانا ہماری مجبوری ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ احتساب عدالتیں مقدمات کا بوجھ اٹھانے کے لیے ناکافی ہیں، حکومت کو کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ نیب عدالتوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔
اس سے قبل لاکھڑا پاور پلانٹ تعمیر میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی منظوری لینے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ سیکرٹری قانون کابینہ سے منظوری لیکر ایک ماہ میں ججز تعیناتی کا عمل شروع کریں۔
سماعت کے دوران 21 سال سے نیب کے رولز نہ بننے کا انکشاف بھی ہوا اور اسکیوٹر جنرل نیب نے اس کا اعتراف کیا جس پر عدالت نے نیب کو ایک ماہ میں نیب آرڈیننس کی سیکشن 34 کے تحت رولز بنا کر پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ نیب کے ایس او پیز رولز کا متبادل نہیں ہو سکتے۔