پیپلزپارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب پر سنگین الزامات لگا دیے۔
سینیٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پیسکو میں بجلی کے میٹروں کی تنصیب کے حوالے سے ایک سوال کے جواب پر وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور سینیٹر بہرہ مند تنگی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد سینیٹر نے وفاقی وزیر توانائی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیسے لے کر چیف ایگزیکٹو آفیسر پیسکو کو تعینات کرایا ہے۔
عمر ایوب نے سینیٹر بہرہ مند تنگی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو جھوٹ اور غلط بیانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی پیپلز پارٹی والے نہیں ہیں، یہ چوری چکاری ان کا کام ہے۔
وفاقی وزیر نے سینیٹ میں کہا کہ بہرہ مند تنگی نے میرے دفتر میں آ کر میرے کام کی تعریف کی تھی، جس پر سینیٹر بہرہ مند تنگی نے عمر ایوب کو جھوٹا قرار دے ڈالا۔
وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ کارکردگی پر سوال کریں تو جواب دیں مگر عزت پر حرف نہیں آنے دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہرہ مند تنگی نے عمر ایوب پر چیف ایگزیکٹو کو پیسے لے کر لگانے کا الزام لگایا ہے، عمران خان کی کابینہ پیسے نہیں لیتی۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر بہرہ مند تنگی کی بات سے نہ صرف عمر ایوب بلکہ پوری کابینہ کا استحقاق مجروح ہوا ہے لہذا معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔
علی محمد خان نے کہا کہ بہرہ مند تنگی سینیٹ استحقاق کمیٹی کے سامنے لگائے گئے الزام کو ثابت کریں اور اگر وہ سچے ثابت نہ ہوں تو پھر معافی مانگیں اور ان کی سینیٹ کی رکنیت ختم کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چاہے جان بھی چلی جائے عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
وفاقی وزیر عمر ایوب نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ استحقاق کمیٹی اور نیب کو بھجوائیں، الزام غلط ثابت ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے پاس ثبوت ہیں بہرہ مند تنگی ایک شخص کے ساتھ آیا اور میرے کام کی تعریف کی۔
سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ عمر ایوب نے جھوٹ بولا ہے کہ میں نے ان کے دفتر جا کر ان کی تعریف کی۔
بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کردیا۔