• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

نیب ملزمان کو طویل عرصہ زیر حراست رکھنا ناانصافی ہے، سپریم کورٹ

by sohail
اکتوبر 23, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سپریم کورٹ نے نیب ملزمان کی طویل حراست پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب مقدمات میں ملزمان کو طویل عرصہ حراست میں رکھنا ناانصافی ہوگی ملزمان سے معاشرے یا ٹرائل پر اثرانداز ہونے کا خطرہ ہو تو ہی گرفتار رکھا جا سکتا ہے۔

عدالت نے مزید کہا ہے کہ پرتشدد فوجداری اور وائٹ کالر کرائم کے ملزمان میں فرق کرنا ہوگا۔

عدالت نے یہ ریمارکس ڈائریکٹر فوڈ پنجاب محمد اجمل کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران دیے۔ کیس کی سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔

عدالت نے کہا ہے کہ نیب ملزمان کے کنڈکٹ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، عدالت نے احتساب عدالت لاہور سے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات مانگ لیں اور ہدایات جاری کیں کہ آگاہ کیا جائے کہ استغاثہ کے تمام 38 گواہان کے بیان کب تک ریکارڈ ہوں گے۔

عدالت نے کہا ہے کہ یہ بھی بتایا جائے عام طور پر نیب مقدمات میں تاخیر کیوں ہوتی ہے۔

 جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ طریقے بھی استعمال ہو سکتے، ملزمان کے پاسپورٹ بنک اکاونٹس اور جائیداد کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

ملزم کے وکیل عابد ساقی نے عدالت کو بتایا کہ احتساب عدالت کے مطابق انکے پاس 80 ریفرنس زیرالتواء ہیں، اگست 2020 میں ملزم پر فرد جرم عائد کی گئی، ملزم 14 ماہ سے نیب حراست میں ہے۔

جسٹس یحیحیٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ اگر 80 مقدمات ہیں تو اس کیس کی باری کب آئے گی؟

نیب پراسیکیوٹر عمران الحق نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ نیب کسی ریفرنس میں بھی تاخیر نہیں کرے گا۔ انہوں نے دلائل میں کہا کہ صرف تاخیر پر ضمانتیں ہوئیں تو ہر ملزم ضمانت مانگے گا۔

جسٹس یحیحیٰ آفریدی نے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر نیب کو عمل کرنا ہوگا، نیب کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت پر اعتراض ہے تو نظرثانی دائر کرے۔

 نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کے فیصلے پر خوش ہیں نیب بھی چاہتا ہے کہ مقدمات جلد ختم ہوں۔ عدالت نے سماعت نومبر کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

Tags: سپریم کورٹ آف پاکستانقومی احتساب بیورو
sohail

sohail

Next Post

فائیو جی کیلئے پاکستانی صارفین کو مزید کتنا انتظار کرنا ہو گا؟

معروف قوال شیرمیاں داد اور ان کا بیٹا فائرنگ سے شدید زخمی

قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان کی غیرسنجیدگی، بار بار شرمندگی کا سامنا

عمران خان مہرہ ہے، بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں، مریم نواز

باہر نکال دیے جانے کی دھمکی کے بعد ٹرمپ کے اہلخانہ نے ماسک پہن لیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In