برطانیہ کی شہزادیاں کیٹ میڈلٹن اور میگھن مارکل اپنے فیشن سینس کی وجہ سے میڈیا اور خبروں کا حصہ تو بنی ہی رہتی ہیں لیکن ان کے سسر پرنس آف ویلز گزشتہ کئی سالوں سے برطانیہ کے فیشن آئکن کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
برطانیہ کے فیشن میگزین برٹس ووگ کے ایڈیٹر ان چیف ایڈورڈ اینیفل نے اپنے میگزین کے تازہ ترین شمارے کے لیے پرنس چارلس کا خصوصی انٹرویو کیا۔
انٹرویو کے دوران ایڈیٹر ان چیف نے پرنس چارلس کو بتایا کہ وہ ہمیشہ سے ان کی خوش لباسی کے معترف رہے ہیں۔
شہزادہ چارلس نے قہقہہ لگا کر جواب دیا کہ مجھے لگا تھا کہ میں رکی ہوئی گھڑی کی طرح ہوں، عموماً لوگ 25 سال بعد ایسی ڈریسنگ کرتے ہیں جیسی میں اب کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے میرے لباس کو اسٹائلش کہا۔ شہزادہ چارلس نے کہا میں لباس کے انتخاب کے وقت رنگ سمیت تفصیل سے دیکھ کر منتخب کرتا ہوں۔
ماحولیاتی مسائل پرکافی عرصے سے مہم چلانے والے پرنس چارلس کو برٹش ووگ کی جانب سے فیشن کی سمجھ بوجھ پر بات کے لیے دعوت دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو چیزوں کو استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں،
انہوں نے بتایا کہ میں چیزوں کو پھینکنے کی بجائے ان کو منظم انداز میں رکھنا پسند کرتا ہوں اور وقت آنے پر مرمت بھی کرا لیتا ہوں۔
انہوں نے مینوفیکچررز اور صارفین کو اشیا کو کم ضائع کرنے پر زور دیا۔
یاد رہے کہ برطانوی شاہی خاندان کے مکینوں کے فیشن سینس پر بات کی جائے تو ملکہ اور شہزادیاں ہمیشہ آگے ہوتی ہیں۔ شاہی خاندان کے مرد عموماً اس حوالے سے پچھلی نشست پر ہی براجمان رہنا مناسب سمجھتے ہیں۔
لیکن میڈیا میں شہزادہ چارلس کی خوش لباسی کے چرچے ہمیشہ ہوتے آئے ہیں۔
اس سے پہلے شہزادہ چارلس کے بڑی بہو کیٹ میڈلٹن بھی برٹس ووگ کے سرورق کی زینت بن چکی ہیں جب کہ ان کی چھوٹی بہو میگھن مارکل کو میگزین میں بطورمہمان بلایا جا چکا ہے۔