معروف تجزیہ کار ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ بلاول نے آج بی بی سی کوجو انٹرویو دیا ہے وہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
سینئر صحافی رؤف کلاسرا کے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول نے ایک بہت اچھی بات کی کہ میرے لیے نواز شریف کی تقریر ایک دھچکا تھا۔ اداروں کے سربراہوں کا نام انہیں نہیں لینا چاہیئے تھا۔
ارشاد بھٹی کے مطابق بلاول نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ عمران خان کو لانے کی ذمہ داری کسی ایک ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی، اور انہوں نے سب سے اہم بات یہ کی کہ نوازشریف ثبوت دیں۔
کیا نواز شریف فوج میں بغاوت کرانا چاہتے ہیں؟
رؤف کلاسرا نے سوال پوچھا کہ عمران خان کے مطابق نوازشریف فوج میں بغاوت کرانا چاہتے ہیں؟ کیا فوج بھی یہی سمجتھی ہے؟
ارشاد بھٹی نے جواب میں کہا کہ عمران خان حکومت میں پہلی بار آئے ہیں، انہیں فوج کا پتا نہیں، فوج ایک خاندان ہے، پوری دنیا کوشش کر چکی ہے مگر اس میں دراڑ نہیں آ سکتی، فوج آرمی چیف ہوتا ہے اور فوج آرمی چیف ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے جو کچھ کیا اس پر فوج دکھی ہے۔ لندن میں کچھ مبینہ ملاقاتوں کے بعد انہوں نے فوج کے خلاف بولنا شروع کیا ہے، ہو سکتا ہے ان کے ساتھ کچھ اور ممالک بھی شریک ہوں۔
ارشاد بھٹی نے کہا کہ اس وقت گاڈ فادر اور سسیلین مافیا اکٹھے ہیں، وہ افواہیں بھی پھیلائیں گے اور سڑکوں پر بھی آئیں گے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ سویلین اداروں کے اہم لوگوں سے لے کر صحافیوں تک نواز شریف کے لیے کام کر رہے ہیں۔
کیا فوج اور عمران خان کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں؟
رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ چوہدریوں کے اچانک حکومت کے خلاف متحرک ہونے کے باعث یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو ایک جھٹکا دینے کی کوشش کی ہے کیونکہ عثمان بزدار کو ہٹانے سمیت کئی معاملات پر وہ تیار نہیں ہو رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب عمران خان کی حمایت میں گیا ہے، سیاستدانوں کی آرمی چیف سے ملاقاتیں ہو رہی تھیں جو اب رک گئی ہیں لیکن ان کا بلاول کو فون کرنا بہت اہم تھا۔
ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے جب بلاول بھٹو کو فون کیا تو انہوں نے پہلے وزیراعظم عمران خان کو بتایا تھا۔
رؤف کلاسرا کا خیال تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور سویلین قیادت کے درمیان فاصلے نظر آ رہے ہیں جبکہ ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ دونوں ایک پیج پر ہیں۔
ارشاد بھٹی نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو شاہد خاقان عباسی کے دور میں لگایا گیا، اس سے ملاقاتیں نواز شریف کرتے رہے، اس کی غیراخلاقی ویڈیو بھی انہوں نے بنائی یا خرید کی تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ نوازشریف کو سزا دینے کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ نے کرایا ہو؟
بلاول اور اسٹیبلشمنٹ کا رومانس
رؤف کلاسرا کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری کا رومانس چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نواز شریف مطمئن ہوں گے کیونکہ اگر بلاول کو عمران خان کے متبادل کے طور پر لایا جاتا ہے تو یہ انہیں سوٹ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب اس پیش رفت سے عمران خان خوش نہیں ہوں گے۔
رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے جنوبی پنجاب اور بلوچستان سے عمران خان کو نشستیں دلوا کر ان کا وزیراعظم بننا ممکن بنایا ہے، وہ یہی کام بلاول کے ساتھ بھی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے پاس سندھ کی سیٹیں ہوں گی اور ساتھ ہی جنوبی پنجاب اور بلوچستان مل جائیں تو اقتدار کی طرف جانے کا رستہ کھل سکتا ہے۔
تاہم ارشاد بھٹی کو اس سے اختلاف تھا، ان کا خیال تھا کہ ابھی عمران خان کے اقتدار کا وقت رہتا ہے، انہیں اپنی مدت پوری کرنی چاہیئے اس کے بعد کارکردگی پر فیصلہ ہو گا۔
‘عمران خان مریم نواز کو لیڈر بنا رہے ہیں’
رؤف کلاسرا نے کہا کہ مریم نواز کی تقریروں میں جارحیت بڑھتی جا رہی ہے اور وہ عمران خان پر سخت حملے کر کے ایک لیڈر کے طور پر ابھر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج وزیراعظم نے بھی بے بسی کا اظہار کیا کہ مریم نواز ایک خاتون ہیں، ان کے متعلق ہم زیادہ بات نہیں کر سکتے اور نہ ہی جیل میں ڈال سکتے ہیں۔
ارشاد بھٹی نے کہا کہ جس طرح بےنظیر بھٹو نے نوازشریف پر حملے کر کے انہیں بڑا رہنما بنایا تھا وہی کام اب عمران خان مریم نواز کے ساتھ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس دن مریم نواز اقتدار میں آئیں کارکردگی کے لحاظ سے ملک کے لیے عمران خان سے بڑی تباہ کن ثابت ہوں گی۔
ارشاد بھٹی کا خیال تھا کہ اسٹیبلشمنٹ مریم نواز سے بہت خوش ہو گی کیونکہ نوازشریف کی تربیت یافتہ ہونے کے باعث جتنا یہ ان کے ساتھ تعاون کریں گی اور کوئی نہیں کر سکتا۔