امریکہ کا صدر دنیا میں سب سے طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا ہے اور اس کے انتخاب کے وقت ہر ملک اس بات پر غوروفکر شروع کر دیتا ہے کہ کون سا امیدوار ان کے لیے کیسا رہے گا۔
پاکستان اور بھارت بھی اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں ہیں تاہم مسئلہ کشمیر اور دیگر معاملات کی وجہ سے دونوں ممالک نئے امریکی صدر کے حوالے سے ایک دوسرے کے متعلق بھی تجزیہ کرتے رہتے ہیں۔
امریکہ میں ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن بظاہر کامیاب ہو چکے ہیں، بھارت میں ایک درجہ تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ وہ کشمیر کے معاملے پر بھارتی پالیسیوں کے نقاد رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جوبائیڈن نے مودی سرکار کی جانب سے گزشتہ برس کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وفاق کے تحت دو حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل کی بھی مخالفت کرتے ہوئے پرانی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
جوبائڈن 2008 اور 2011 میں پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں انہیں 2008 میں ہلال پاکستان کے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا، یہ اعزاز سینیٹر جوبائیڈن اور رچرڈ لوگر کو پاکستان کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد منظور کرانے کے لیے کی جانے والی کوشش کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔
اس کے بعد جوبائڈن نے آخری مرتبہ نائب صدر کی حیثیت سے 12 جنوری 2011 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ نائب صدر اور سینیٹر کی دونوں حیثیتوں میں ان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے رہے ہیں۔
اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک اور تارکین وطن شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور صدر ٹرمپ کی تارکین وطن مخالف پالیسیوں پر نظر ثانی کا بھی وعدہ کیا تھا۔
ڈیموکریٹ اُمیدوار جوبائیڈن انسانی حقوق کی سر بلندی کے لیے کام کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور چین میں ایغور مسلمانوں پر جبر کے خلاف آواز اُٹھاتے آئے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی انسانی حقوق کے حوالے سے بہت حساس ہے، یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں اور بھارتی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر ان کا رویہ ری پبلکن کی نسبت زیادہ سخت ہونے کا امکان ہے۔
مودی سرکار کے لیے جو بائیڈن کا صدر بننا خطرے کی گھنٹی سمجھا جا رہا ہے، غالب امکان ہے کہ امریکہ کی جانب سے بھارت پر اپنا انسانی حقوق کا ریکارڈ بہتر بنانے پر دباؤ رہے گا۔