• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, جون 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

انسانی حقوق کے متعلق حساس جوبائیڈن کا صدر بننا بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی

by sohail
نومبر 7, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

امریکہ کا صدر دنیا میں سب سے طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا ہے اور اس کے انتخاب کے وقت ہر ملک اس بات پر غوروفکر شروع کر دیتا ہے کہ کون سا امیدوار ان کے لیے کیسا رہے گا۔

پاکستان اور بھارت بھی اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں ہیں تاہم مسئلہ کشمیر اور دیگر معاملات کی وجہ سے دونوں ممالک نئے امریکی صدر کے حوالے سے ایک دوسرے کے متعلق بھی تجزیہ کرتے رہتے ہیں۔

امریکہ میں ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن بظاہر کامیاب ہو چکے ہیں، بھارت میں ایک درجہ تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ وہ کشمیر کے معاملے پر بھارتی پالیسیوں کے نقاد رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جوبائیڈن نے مودی سرکار کی جانب سے گزشتہ برس کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وفاق کے تحت دو حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل کی بھی مخالفت کرتے ہوئے پرانی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جوبائڈن 2008 اور 2011 میں پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں انہیں 2008 میں ہلال پاکستان کے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا، یہ اعزاز سینیٹر جوبائیڈن اور رچرڈ لوگر کو پاکستان کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد منظور کرانے کے لیے کی جانے والی کوشش کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔

اس کے بعد جوبائڈن نے آخری مرتبہ نائب صدر کی حیثیت سے 12 جنوری 2011 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ نائب صدر اور سینیٹر کی دونوں حیثیتوں میں ان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے رہے ہیں۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک اور تارکین وطن شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور صدر ٹرمپ کی تارکین وطن مخالف پالیسیوں پر نظر ثانی کا بھی وعدہ کیا تھا۔

ڈیموکریٹ اُمیدوار جوبائیڈن انسانی حقوق کی سر بلندی کے لیے کام کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور چین میں ایغور مسلمانوں پر جبر کے خلاف آواز اُٹھاتے آئے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی انسانی حقوق کے حوالے سے بہت حساس ہے، یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں اور بھارتی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر ان کا رویہ ری پبلکن کی نسبت زیادہ سخت ہونے کا امکان ہے۔

مودی سرکار کے لیے جو بائیڈن کا صدر بننا خطرے کی گھنٹی سمجھا جا رہا ہے، غالب امکان ہے کہ امریکہ کی جانب سے بھارت پر اپنا انسانی حقوق کا ریکارڈ بہتر بنانے پر دباؤ رہے گا۔

Tags: جو بائیڈننریندر مودی
sohail

sohail

Next Post

امریکی سپریم کورٹ کا دیر سے آنے والے ووٹ الگ کرنے کا حکم

منگیتر سے جھگڑے کے بعد ڈاکٹر نے خود سے شادی رچا لی

عمران خان نے پی ڈی ایم کو سرکس قرار دے دیا

نوازشریف کا اصل روپ قوم کو دکھائیں گے، ثنااللہ زہری کی پریس کانفرنس

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کا مسلم لیگ چھوڑنے کا اعلان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In