ایم ایل ون پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا اور سی پیک میں شامل اسٹریٹیجک نوعیت کا منصوبہ ہے جس کی تکمیل کے بعد کراچی اور لاہور کے درمیان ٹرین کا سفر صرف 7 گھنٹے رہ جائے گا۔
جمعہ کے روز وزیراعظم عمران خان نے اٹک میں حسن ابدال ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں اس کا ذکر کیا۔
یہ منصوبہ لاگت کے اعتبار سے ریلوے کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایم ایل ون منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے جس پر 6 ارب 80 کروڑ امریکی ڈالر کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
پاکستان میں ریلوے کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ سفر کا ایک سستا اور آرام دہ طریقہ ہے، اس منصوبے سے سیاحت کو بھی فروغ دیا جا سکے گا۔
بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت پہلے سے موجود ایک ہزار 872 کلومیٹر طویل اس ٹریک کو 2 رویہ بھی کیا جائے گا جبکہ ٹریک کی اپ گریڈیشن سے اس پر چلنے والی ٹرینوں کی موجودہ رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجائے گی۔
اس منصوبے میں کمپیوٹرائزڈ سگنل و کنٹرول سسٹم بھی شامل ہیں جبکہ گریڈ سیپریشن کے ذریعے ٹرینوں کے آپریشن کو محفوظ بھی بنایا جائے گا۔
وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ ایک انقلابی منصوبہ ہے جس سے پاکستان ریلوے کے تمام ڈھانچے کی تشکیل نوہوگی،اس منصوبے سے روزگارکے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ایم ایل ون کسی پھاٹک کے بغیر ایک ایسی ریلوے لائن ہوگی جس سے کراچی لاہور اورلاہورراولپنڈی کے درمیان سفر کے دورانیے میں واضح کمی آئے گی۔
منصوبے سے ریلوے کے حادثات میں بھی کمی آئے گی اور لوگوں کے لیے ڈیڑھ لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیداہوں گے۔ ایم ایل ون منصوبے کے لیے کم شرح پرقرض حاصل کیا جائے گا۔