ناسا نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری کہکنشاں میں ممکنہ طور پر تقریباً 30 ملین سیارے ایسے ہیں جن پر انسان آباد ہو سکتا ہے۔
امریکی خلائی ادارے کی خلائی ٹیلی سکوپ کیپلر نے 2018 میں ایندھن ختم ہونے سے پہلے کامیابی کے ساتھ ایسے سیاروں کی نشاندہی کی جو ہمارے نظام شمسی سے باہر مقیم ہیں۔
کیپلر کی اس کامیابی کے بعد مشن کا بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ان سیاروں میں سے کتنے ایسے ہیں جن پر انسان آباد ہو سکتا ہے۔
دنیا بھر کے سائنسدانوں نے کیپلرز کی طرف سے موصول کیے گئے ڈیٹا کا بغور مطالعہ کیا ہے، سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ یہ بات جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ دریافت کیے گئے سیاروں میں سے کتنے ایسے ہیں جن پر انسان آباد ہو سکتا ہے۔
آسٹرونومیکل جرنل میں شائع کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 30 کروڑ سیارے ایسے ہیں جن کی سطح پتھریلی ہے، یہ سطح اپنے اندر پانی جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ناسا کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سیاروں کی تعداد ایک اندازہ ہے، یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ناسا کے مطابق ان سیاروں میں کچھ ہمارے اتنے قریب ہیں کہ ہم ان کو اپنا پڑوسی کہہ سکتے ہیں، ان سیاروں میں سب سے قریب ترین سیارہ ہم سے 20 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
ناسا کے ایک تحقیق کار اسٹیو بریسن کا کہنا ہے کہ کیپلر نے اس سے پہلے بھی ہمیں اربوں ایسے سیاروں کے بارے میں بتایا تھا اور اب تو ہمارے پاس ان کا ڈیٹا موجود ہے جہاں انسان کی آباد کاری ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کیپلر کے ڈیٹا سے اخذ کیا گیا نتیجہ ہمارے حتمی فیصلے سے کافی دور ہے کیونکہ زندگی کے لیے ضروری عوامل میں سے پانی صرف ایک عنصر ہے۔
ناسا کا اندازہ ہے کہ ہماری کہکشاں میں 100 سے 400 ارب ستارے موجود ہیں، ہر ستارے کا کم از کم ایک سیارہ ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے مجموعی طور پر ہزاروں ارب سیارے گردش کر رہے ہیں۔
یہ صرف اس کہکشاں کا ذکر ہے جس میں ہمارا سیارہ زمین موجود ہے، اس کے علاوہ اربوں کہکشائیں کائنات کا حصہ ہیں اور ہر کہکشاں میں کھربوں سیارے اپنا وجود رکھتے ہیں۔