قومی کرکٹ ٹیم کے ٹی ٹونٹی کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ٹیم کی مموعی کارکردگی میرے ریکارڈز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے 26 سالہ بلے بازکپتان کا کہنا تھا کہ بطور کپتان میرے لیے انفرادی کارکردگی سے زیادہ ٹیم کی کارکردگی اہمیت کی حامل ہے، جو کسی بھی دوسرے مقصد سے زیادہ اہم ہے۔
بابر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر میں ٹیم کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کروں تو میں اسے اپنا ذاتی مقصد پا لینے جتنی اہمیت دیتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کیویز کے خلاف قومی ٹیم کے اسکواڈ میں ینگ ٹیلنٹ کو شامل کرنے سے پہلے جائزہ لے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ اسکواڈ میں نوجوان کھلاڑی ہی شامل ہوں لیکن ان کھلاڑیوں کو سیریز کے دوران موقع ضرور دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ زمبابوے کے خلاف ون ڈے سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں کو اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا موقع دیا گیا تھا لیکن نیوزی لینڈ سے قبل انتظامیہ ٹیم کمبینیشن کو دیکھ کر کھلاڑیوں کی شمولیت کا فیصلہ کرے گی۔
شاہین شاہ آفریدی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بابر اعظم کا کہنا تھا کہ شاہین آرام کرنے کی بجائے ہرکھیل میں حصہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ فاسٹ باولرز کو آرام کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ میچوں میں حصہ لینا چاہیے۔
یاد رہے قومی کرکٹ ٹیم کے ٹی ٹونٹی اور ون ڈے کپتان بابر اعظم نے 3 نومبر کو زمبابوے کے خلاف کھیلے جانے والے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں 13 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 125 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔
زمبابوے کی جانب سے دیا گیا 279 رنز کے ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم نے 278 رنز بنا کر میچ ٹائی کر دیا تھا جس کا فیصلہ سپر اوور کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔
سپر اوور کے دوران قومی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف تین رنز بنائے تھے جسے مہمان ٹیم نے اوور کی تیسری گیند پر حاصل کر لیا۔
تاہم پاکستان اس سے پہلے ہی سیریز اپنے نام کر چکا تھا۔
دونوں ٹیموں کے درمیان مختصر فارمیٹ کا پہلا میچ سات نومبر کو کھیلا جائے گا، سیریز کا دوسرا میچ آٹھ نومبر اور تیسرا میچ دس نومبر کو کھیلا جائے گا۔
سیریز کے تینوں میچ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں شیڈول ہیں۔