امریکا کے صدارتی انتخابات میں پہلی سیاہ فام امریکی خاتون کملا ہیرس نے ملک کی نائب صدر بن کر تاریخ رقم کر دی ہے۔
امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ 56 سالہ کملا ہیرس کو آئندہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جانب سے صدارتی امیدوار کے طور پر بھی نظر میں رکھا جائے گا۔
میڈیا کے مطابق منتخب صدر جوبائیڈن آئندہ انتخابات میں صدارتی امیدوار نا بننے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
امریکا کی پہلی ایشیائی امریکی خاتون کملا ہیرس سان فرانسسکو کی پہلی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے عہدے پر بھی کام کر چکی ہیں، اس سے قبل وہ کیلی فورنیا سے بھی اٹارنی منتخب ہو چکی ہیں۔ دونوں عہدوں پر انہیں پہلی سیاہ فام خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ کملا ہیرس کو عدالتی بھرتیوں سے متعلق صدر کی مشیر کا عہدہ دیے جانے کا امکان ہے۔
میڈیا کے مطابق کملا ہیرس کے والدین بھارت سے ہجرت کر کے جمیکا اور جمیکا سے امریکا منتقل ہو گئے تھے۔ انہیں رواں سال کے صدارتی امیدوار کے لیے امریکی خاتون صدر کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
انہوں نے ماضی میں جوبائیڈن کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی، ماضی کی ناقد کو جوبائیڈن نے رواں برس اگست میں نائب صدر کے لیے نامزد کیا تھا۔
گزشتہ انتخابات میں ہیلری کلنٹن کی صدارتی مہم چلانے والے جوئیل پائن کا کہنا تھا کہ کملا ہیرس نے تمام وقت میں ایک بہترین امیدوار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
جوئیل پائن کے مطابق کملا ہیرس امریکا بھر کے ڈیموکریٹس کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
رواں برس اکتوبر میں کمالا ہیرس نے نائب صدارتی مکالمے میں مائیک پینس کے مخالف کھڑے ہو کر کہا تھا کہ میں اور جوبائیڈن ایک جیسے ماحول میں پلے بڑھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ماحول میں اقداراور عوام کو وقار کے لیے کوشش کرنا اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔