وزیراعظم عمران خان کے دورہ کابل کے دوران پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
کابل میں افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات کی مزید بہتری کا خواہاں ہے، افغانستان میں امن کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
انہوں نے دورہ کابل کے لیے صدر اشرف غنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، 60 اور 70 کی دہائی میں پاکستانیوں کے لیے کابل پسندیدہ جگہ تھی جبکہ افغانوں کے لیے پشاور تھا۔
عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں مذاکرات کے باوجود تشدد پر تشویش ہے، افغان حکومت اور طالبان میں جنگ بندی چاہتے ہیں، ہمیشہ یہی موقف رہا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات کی مزید بہتری کا خواہاں ہے۔ طاقت سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے معاونت فراہم کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے قبائلی علاقے متاثر ہوئے۔ کابل اور اسلام آبادکے درمیان مسلسل رابطے رہنے چاہییں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی عوام اور حکومت افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ افغانستان میں امن ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔ افغانستان میں امن کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ افغانستان آنے پر وزیراعظم عمران خان کا مشکور ہوں۔ پاکستان اور افغانستان کےدرمیان تعلقات کی نوعیت سے سب آگاہ ہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں تعاون علاقائی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، دونوں ممالک کے مفادات مشترکہ ہیں ،افغانستان کے عوام جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
اشرف غنی نے کہا کہ ہمیں اسوہ رسولﷺ پر عمل کر کے اپنی زندگیوں کو گزارنا چاہیے۔ آزادی اظہار رائے کے حوالے سے منفی اور مثبت ریوں میں تفریق ضروری ہے۔ رسولﷺ کی ناموس تمام مسلمانوں کی عزت سے جڑی ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان افغان صدارتی محل پہنچے جہاں افغان صدر اشرف غنی نے ان کا استقبال کیا اور فوجہ دستوں کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نور خان ایئر بیس سے خصوصی طیارے کے ذریعے کابل روانہ ہوئے تھے۔