پاکستان میں دھرنے کے کلچر کو نئی جہتوں سے متعارف کرانے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد امارت کی ذمہ داری ان کے صاحبزادے سعد رضوی کے سپرد کر دی گئی ہے۔
خادم حسین رضوی کے انتقال کی خبر پھیلنے کے بعد یہ سوال پوچھا جا رہا تھا کہ کون ان کا جانشین ہو گا اور کیا نئے امیر کی قیادت میں جماعت اپنا وجود ماضی کی طرح برقرار رکھ سکے گی؟
اس کے علاوہ قیادت کے مسئلے پر جماعت میں ممکنہ اختلافات کے متعلق بھی قیاس آرائیاں جاری تھیں، تاہم اس مسئلے کو خادم رضوی کے جنازے پر ہی حل کر لیا گیا اور سعد رضوی کی امارت کا اعلان کر دیا گیا۔
سعد رضوی اپنے والد کے ساتھ جماعت کا کام سرگرمی سے کرتے رہے ہیں، وہ اس سے قبل ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز تھے اور ساتھ ہی سوشل میڈیا کا پہلو بھی سنبھالتے تھے۔
اردو نیوز کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے رہنما پیر اعجاز اشرفی نے بتایا ہے کہ سعد رضوی کے نام پر شوریٰ نے مکمل اتفاق کیا، جماعتی نظم کو چلانے کے لیے 16 رکنی شوریٰ ان کی مدد کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ خادم رضوی خود اپنے بیٹے سے مشورے لیا کرتے تھے، سعد رضوی سمجھدار نوجوان ہیں اور جانتے ہیں کہ کام کس طرح کرنا ہے۔
معروف کالم نگار اوریا مقبول جان کا کہنا ہے کہ سعد رضوی دھیمے مزاج کے آدمی ہیں اس لیے خادم حسین رضوی جیسا انداز تخاطب اب دستیاب نہیں ہو گا۔
سعد رضوی، خادم رضوی کے دو بیٹوں میں سے دوسرے نمبر پر ہیں ان کے بارے میں تاثر یہی ہے کہ وہ جدید طریقوں سے معاملات چلانے کے حامی ہیں۔ اور جماعت کے نظم و نسق کو اچھی طرح سمجھنے کی وجہ سے وہ جماعتی معمولات کو ویسے ہی چلائیں گے جیسے پہلے چلائے جا رہے تھے۔