پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں فتح حاصل کر لی ہے اور آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔
تاہم ان کے لیے ایک بڑا چیلنج گلگت بلتستان کا وزیراعلیٰ اور اسپیکر اسمبلی کا انتخاب کرنا ہے۔ اس حوالے سے مختلف نام سامنے آ رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے جی بی ایل اے 13 سے الیکشن جیتنے والے خالد خورشید وزیراعلیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں جنہوں نے 4836 ووٹ لیکر پیپلزپارٹی کے عبدالحمید خان کو شکست دی۔
خالد خورشید کے ساتھ ساتھ حلقہ 6 کے کرنل (ر) عبیداللہ بیگ بھی متوقع امیدوار ہیں جن کے پوزیشن کافی مضبوط ہے، ی بی ایل اے 11 سکردو سے انتخاب جیتنے والے امجد زیدی اسپیکر شپ کے مضبوط امیدوار سمجھے جارہے ہیں۔ اسکے علاوہ جاوید منوا کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں دو دھچکے لگے ہیں جس کی وجہ سے وزیراعلیٰ کا انتخابات مشکل ہو گیا ہے، جی بی ایل اے 3 کے امیدوار سید جعفر اقبال شاہ الیکشن مہم کے دوران انتقال کر گئے، وہ وزیراعلیٰ کے سب سے مضبوط امیدوار تھے۔
اس کے علاوہ دوسری مضبوط امیدوار آمنہ انصاری تھیں مگر وہ انتخابات میں ایک آزاد امیدوار سے شکست کھا گئیں اور اس دوڑ سے باہر ہو گئیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان میں 9 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ 6 آزاد امیدوار بھی پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں جس کے بعد ان کی نشستوں کی مجموعی تعداد 15 ہو گئی ہے۔
پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ایم ڈبلیو ایم کی ایک سیٹ کو بھی شامل کر لیا جائے تو تعداد 16 بنتی ہے جس کے بعد حکومت بنانا کوئی مشکل نہیں رہا تاہم وزیراعلیٰ کی تلاش ایک چیلنج سے کم نہیں۔