• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کورونا وائرس کے 50 فیصد پھیلاؤ کی اہم وجہ سامنے آگئی

by sohail
نومبر 22, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی جانب سے جاری اپ ڈیٹ گائیڈ لائنز میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے بیشتر کیسز کا سبب وہ افراد ہوتے ہیں جن میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں۔

سی ڈی سی کے مطابق یہی ایک مرکزی وجہ ہے جو فیس ماسک کے استعمال کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔

سی ڈی سی کا یہ بھی کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے بیشتر کیسز کی وجہ بغیر علامات والے مریض ہوتے ہیں۔

سی ڈی سی اور دیگر تخمینے کے مطابق 50 فیصد سے زیادہ کیسز میں وائرس ایسے افراد سے دیگر میں منتقل ہوتا ہے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ کم از کم 50 فیصد نئے کیسز کے پیچھے ایسے افراد ہوتے ہیں جن کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ دیگر تک اسے منتقل کر رہے ہیں۔

سی ڈی سی کے مطابق دیگر افراد تک وائرس منتقل کرنے والے 24 فیصد افراد میں کبھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، 35 فیصد میں کچھ دنوں بعد ظاہر ہوتی ہیں جبکہ 41 فیصد افراد علامات کا شکار ہونے کے بعد دیگر کو اس بیماری سے متاثر کرتے ہیں۔

 امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ بیماری کے 5 دن بعد ایک مریض سب سے زیادہ متعدی ہوتا ہے، اس تصور کو مدنظر رکھا جائے تو 59 فیصد کیسز کی وجہ ایسے افراد ہوتے ہیں جن میں اس وقت تک علامات ظاہر نہیں ہوئی ہوتیں۔

امریکی ادارے کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ شرح 51 سے 70 فیصد ہو سکتی ہے۔

امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ کسی متاثرہ فرد کے سانس لینے، بات کرنے، کھانسی، چھینک یا گانے کے دوران منہ یا ناک سے خارج ہونے والے ذرات کسی کو بیمار کرنے کا مرکزی ذریعہ بن سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بات کرنے یا اونچی آواز میں گانے کے دوران زیادہ مقدار میں ایسے ذرات کو خارج کرتے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ کیسز کی شرح اس وقت عروج پر ہوتی ہے جب کسی مریض میں وائرل لوڈ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور چونکہ علامات ظاہر نہیں ہوتیں تو ایسے لوگوں کو علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ خود بیمار ہیں۔

یاد رہے سی ڈی سی نے گزشتہ دنوں اپنی گائیڈ لائنز میں یہ بھی بتایا تھا کہ فیس ماسک کا استعمال لوگوں کو بڑے اور چھوٹے وائرل ذرات نگلنے سے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔

Tags: کورونا کیوں پھیلتا ہے؟کورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

نواز شریف، شہباز شریف کی والدہ انتقال کرگئیں

شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو پے رول پر رہا کرنے کا فیصلہ

دو بار کورونا کا شکار ہونیوالا کوبرا کے ڈسنے سے نابینا اور مفلوج ہو گیا

پشاور میں پی ڈی ایم کا پاور شو، خطاب میں کس نے کیا کہا؟

پاکستان میں تمام تعلیمی ادارے 26 نومبر سے بند کرنے کا اعلان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In