امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی جانب سے جاری اپ ڈیٹ گائیڈ لائنز میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے بیشتر کیسز کا سبب وہ افراد ہوتے ہیں جن میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں۔
سی ڈی سی کے مطابق یہی ایک مرکزی وجہ ہے جو فیس ماسک کے استعمال کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔
سی ڈی سی کا یہ بھی کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے بیشتر کیسز کی وجہ بغیر علامات والے مریض ہوتے ہیں۔
سی ڈی سی اور دیگر تخمینے کے مطابق 50 فیصد سے زیادہ کیسز میں وائرس ایسے افراد سے دیگر میں منتقل ہوتا ہے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ کم از کم 50 فیصد نئے کیسز کے پیچھے ایسے افراد ہوتے ہیں جن کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ دیگر تک اسے منتقل کر رہے ہیں۔
سی ڈی سی کے مطابق دیگر افراد تک وائرس منتقل کرنے والے 24 فیصد افراد میں کبھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، 35 فیصد میں کچھ دنوں بعد ظاہر ہوتی ہیں جبکہ 41 فیصد افراد علامات کا شکار ہونے کے بعد دیگر کو اس بیماری سے متاثر کرتے ہیں۔
امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ بیماری کے 5 دن بعد ایک مریض سب سے زیادہ متعدی ہوتا ہے، اس تصور کو مدنظر رکھا جائے تو 59 فیصد کیسز کی وجہ ایسے افراد ہوتے ہیں جن میں اس وقت تک علامات ظاہر نہیں ہوئی ہوتیں۔
امریکی ادارے کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ شرح 51 سے 70 فیصد ہو سکتی ہے۔
امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ کسی متاثرہ فرد کے سانس لینے، بات کرنے، کھانسی، چھینک یا گانے کے دوران منہ یا ناک سے خارج ہونے والے ذرات کسی کو بیمار کرنے کا مرکزی ذریعہ بن سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بات کرنے یا اونچی آواز میں گانے کے دوران زیادہ مقدار میں ایسے ذرات کو خارج کرتے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ کیسز کی شرح اس وقت عروج پر ہوتی ہے جب کسی مریض میں وائرل لوڈ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور چونکہ علامات ظاہر نہیں ہوتیں تو ایسے لوگوں کو علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ خود بیمار ہیں۔
یاد رہے سی ڈی سی نے گزشتہ دنوں اپنی گائیڈ لائنز میں یہ بھی بتایا تھا کہ فیس ماسک کا استعمال لوگوں کو بڑے اور چھوٹے وائرل ذرات نگلنے سے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔