بھارت میں دوسری بار کورونا کا شکار ہونے کے بعد ایک برطانوی شہری کو زہریلے کوبرا سانپ نے ڈس لیا جس سے اس کی بینائی چلی گئی اور جسم فالج کا شکار ہو گیا۔
برطانیہ کے ایک فلاحی ادارے سے تعلق رکھنے والا آئن جونز بھارت کے ایک گاؤں میں کام کر رہا تھا، مارچ میں وہ پہلی بار کورونا وائرس میں مبتلا ہوا تاہم اس سے صحتیاب ہو گیا۔
وہ دوسری بار حال ہی میں کورونا کا شکار ہوئے اور ابھی اس سے نجات حاصل نہیں ہوئی تھی کہ زہریلے کوبرا نے انہیں ڈس لیا جس کے بعد وہ اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
آئن جونز شمال مغربی بھارت کے ایک گاؤں میں غربت کا شکار ہنرمندوں کی معاونت کا کام کر رہے تھے، ان کے ساتھیوں اور خاندان نے ایک پیج بنایا ہے جس کا مقصد ان کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔
اس پیج پر بتایا گیا ہے کہ آئن جونز اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل ہیں اور کورونا کے باعث پیچیدگیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔
‘گو فنڈ می’ پیج پر جاری بیان کے مطابق وہ سفری پابندیوں کے باعث گھر واپس نہیں آ سکتے اور اب انہیں علاج پر ہونے والے اخراجات کے لے فنڈز کی ضرورت ہے کیونکہ وہ بڑھتے ہوئے طبی اخراجات پورا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
آئن جونز اس سے قبل فلاحی سرگرمیوں کے دوران ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کا سامنا کر چکے ہیں اور ان سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔
ان کے بیٹے سیب جونز نے اپنے والد کو فائٹر قرار دیا جو بیماریوں کے باوجود بھارت میں مقیم رہے تاکہ اپنے سماجی کام کو آگے بڑھا سکیں۔
ان کا کہنا تھا ‘ہمیں قدرتی طور پر ان کے قیام پر تشویش تھی اور جب ہم نے سنا کہ انہیں زہریلے سانپ نے ڈس لیا ہے تو ہمیں یقین ہی نہیں آیا’۔
انہوں نے کہا ‘اب ان کی حالت مستحکم ہے، مگر ان کی ٹانگیں مفلوج جبکہ آنکھوں کی روشنی ختم ہوگی ہے، توقع ہے کہ یہ مسائل عارضی ہوں گے، مگر یہ واضح ہے کہ انہیں کچھ وقت تک ہسپتال میں ہی رہنا ہوگا’۔