پنجاب حکومت نے کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے سرکاری ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تمام سرکاری محکموں کے ملازمین اپنے فرائض منصبی گھر سے سرانجام دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل پنجاب حکومت نے 55 سال سے زائد عمر کے افراد کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی تھی لیکن کورونا کی دوسری لہر کے خلاف جاری جنگ میں نئی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت تمام سرکاری ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
دوسری جانب لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان میں کورونا کے پھیلاو کی شرح کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگائی جائے تاکہ کورونا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
نئی حکمت عملی کے تحت کورونا سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے وزیرصنعت کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے جس کے بعد میاں اسلم 23 نومبر سے تاجروں کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے اور انہیں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کی ہدایات کریں گے۔
تعلیمی اداروں سے متعلق فیصلے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی ہدایات کے مطابق کیے جائیں گے۔
یاد رہے پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر میں تشویشناک تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، نئے کیسز کے ساتھ ساتھ اموات کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 2756 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 34 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے مریضوں کی کل تعداد 3 لاکھ 76 ہزار 929 ہو گئی ہے، اب تک اس وبا سے 7696 افراد انتقال کر چکے ہیں جبکہ فعال کیسز کی تعداد 38 ہزار 348 تک پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 1057 مریض کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد وائرس سے نجات پانے والوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 30 ہزار 885 ہو گئی ہے۔