سندھ ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے مسلمان ہو کر شادی کرنے والی لڑکی آرزو فاطمہ کو تعلیم اور دیگر سہولیات دینے کی ہدایت کر دی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں آرزو فاطمہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں نومسلم لڑکی نے والدین کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ محکمہ داخلہ آرزو فاطمہ کی کونسلنگ اور تعلیم و تربیت کا انتظام کرے اور محکمہ داخلہ کے نمائندے روزانہ آرزو سے ملاقات کریں۔
آرزو فاطمہ کے وکیل نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میری موکلہ درخواست دائر کرنا چاہتی ہیں کہ دارالامان انتظامیہ نے انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ یہ اغواء کا کیس نہیں ہے، کم عمری میں شادی کرانے کا کیس ہے۔
پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ نکاح کرانے والے قاضی اور دیگر گواہان نے اپنی ضمانت منظور کرا لی ہے لیکن دو ملزمان فرار ہیں۔
جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟
عدالت نے کہا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے پیش کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
دوران سماعت آرزو فاطمہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ مقدمے کا چالان ماتحت عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جس پر جسٹس کے کے آغا نے انہیں خاموش رہنے کا حکم دیا۔
عدالت نے آرزو فاطمہ کے وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ اس مقدمے میں آپ وکیل نہیں ہیں، آپ خاموش رہیں۔
وکیل نے ایک بار پھر کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ اسلامی قوانین کے تحت فیصلہ ہونا چاہیے۔
جسٹس کے کے آغا نے اپنے ریمارکس میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ توہین عدالت کر رہے ہیں۔ اگر آپ خاموش نہیں ہوں گے تو آپ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
جسٹس کے کے آغاز نے کہا کہ ہم نے آرزو فاطمہ کیس کا فیصلہ کر دیا ہے، آپ چاہیں تو اس کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر سکتے ہیں۔
عدالت نے آرزو فاطمہ سے استفسار کیا کہ کیا وہ والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہیں، جس پر انہوں نے انکار کر دیا۔
عدالت نے محمکہ داخلہ کو آرزو فاطمہ کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری دے کر درخواست نمٹا دیا۔