• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

وکلاء کی بدزبانی کے واقعات میں اضافہ، ججز کے ہائیکورٹ کے سامنے شکایات کے انبار

by sohail
نومبر 23, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار مشتاق احمد اوجلا نے پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز کو ہدایات کی ہیں کہ وہ گزشتہ دو سال کے دوران جونیئر جوڈیشل افسران کے ساتھ وکلا کی بدزبانی اور بداخلاقی کے واقعات کو مرتب کریں۔

ہائی کورٹ کی جانب سے یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ جونیئر جوڈیشل افسران کی جانب سے وکلا کی بدتمیزیوں اور نامناسب رویے کی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ججز کی جانب سے ہائی کورٹ کے حکام کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مرد اور خواتین وکلا دوران سماعت کسی بھی ڈسٹرکٹ جج کو کارروائی ملتوی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مرد وکلاء خواتین ججز پر ملے کستے ہیں اور ان کے بدتمیزی کرتے ہیں۔

ججز کی جانب سے شکایت کی گئی کہ وکلا کسی بھی ڈسٹرکٹ جو مجبور کرتے ہیں کہ کارروائی ان کے چیمبر میں ہونی چاہیے۔

جوڈیشل افسران کا کہنا ہے کہ اعلی حکام کو تحریری درخواست دینے کے باوجود کوئی خاطرخواہ ایکشن نہیں لیا گیا، اعلی حکام کی جانب سے شکایت درج کرانے والے افراد کو کہا جاتا ہے کہ وہ ملزمان سے صلح کر لیں۔

جونیئر افسران کا کہنا ہے کہ سینیئر افسران ایسے رویوں سے متعلق شکایت پر سنجیدہ کارروائی نہیں کرتے، الٹا انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ وکلا کے رویے کو حرف با حرف تحریر نا کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سیشن ججز ضلع لاہور میں اپنی پوسٹنگ کو طول دینے کے لیے بار کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز بھی کرتے ہیں۔

ایک خاتون جج نے اپنی شکایت میں موقف اختیار کیا کہ ایک وکیل نے کھلی عدالت میں ان سے بدتمیزی کی اور ان پر چیخے چلائے۔

خاتون جج کا کہنا تھا کہ وکیل نے ان سے کیس خارج کرنے پر جرح کی جس پر خاتون جج نے انہیں اپیل دائر کرنے کا مشورہ دیا۔ جواب میں وکیل نے نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہوئے ان سے بدتمیزی کی۔

ایک اور خاتون جج کا کہنا تھا کہ ایک وکیل نے انہیں صرف اس بات پر دھمکانےا ور ہراساں کرنے کی کوشش کی کہ میں دوسرے وکیل کا موقف سنے بغیر فیصلہ سنا دوں۔

لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر جی اے خان طارق نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس طرح کے واقعات بہت کم ہوئے ہیں۔

Tags: جونیئر جوڈیشنل افسرانڈسٹرکٹ ججرجسٹرارلاہور ہائی کورٹوکلا
sohail

sohail

Next Post

نعیم بخاری کو چیئرمین پی ٹی وی مقرر کر دیا گیا

اپوزیشن کا کورونا پر پارلمیانی کمیٹی اجلاس کے بائیکاٹ کا امکان

لاک ڈاؤن، سماجی فاصلے کے باعث بلڈ پریشر کے مریضوں میں اضافے کا انکشاف

نیتن یاہو، شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات کے پاکستان پر اثرات، رؤف کلاسرا کا تجزیہ

الطاف حسین، عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی فرم کو کروڑوں روپے ادائیگی کا انکشاف

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In