لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار مشتاق احمد اوجلا نے پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز کو ہدایات کی ہیں کہ وہ گزشتہ دو سال کے دوران جونیئر جوڈیشل افسران کے ساتھ وکلا کی بدزبانی اور بداخلاقی کے واقعات کو مرتب کریں۔
ہائی کورٹ کی جانب سے یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ جونیئر جوڈیشل افسران کی جانب سے وکلا کی بدتمیزیوں اور نامناسب رویے کی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ججز کی جانب سے ہائی کورٹ کے حکام کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مرد اور خواتین وکلا دوران سماعت کسی بھی ڈسٹرکٹ جج کو کارروائی ملتوی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مرد وکلاء خواتین ججز پر ملے کستے ہیں اور ان کے بدتمیزی کرتے ہیں۔
ججز کی جانب سے شکایت کی گئی کہ وکلا کسی بھی ڈسٹرکٹ جو مجبور کرتے ہیں کہ کارروائی ان کے چیمبر میں ہونی چاہیے۔
جوڈیشل افسران کا کہنا ہے کہ اعلی حکام کو تحریری درخواست دینے کے باوجود کوئی خاطرخواہ ایکشن نہیں لیا گیا، اعلی حکام کی جانب سے شکایت درج کرانے والے افراد کو کہا جاتا ہے کہ وہ ملزمان سے صلح کر لیں۔
جونیئر افسران کا کہنا ہے کہ سینیئر افسران ایسے رویوں سے متعلق شکایت پر سنجیدہ کارروائی نہیں کرتے، الٹا انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ وکلا کے رویے کو حرف با حرف تحریر نا کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سیشن ججز ضلع لاہور میں اپنی پوسٹنگ کو طول دینے کے لیے بار کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز بھی کرتے ہیں۔
ایک خاتون جج نے اپنی شکایت میں موقف اختیار کیا کہ ایک وکیل نے کھلی عدالت میں ان سے بدتمیزی کی اور ان پر چیخے چلائے۔
خاتون جج کا کہنا تھا کہ وکیل نے ان سے کیس خارج کرنے پر جرح کی جس پر خاتون جج نے انہیں اپیل دائر کرنے کا مشورہ دیا۔ جواب میں وکیل نے نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہوئے ان سے بدتمیزی کی۔
ایک اور خاتون جج کا کہنا تھا کہ ایک وکیل نے انہیں صرف اس بات پر دھمکانےا ور ہراساں کرنے کی کوشش کی کہ میں دوسرے وکیل کا موقف سنے بغیر فیصلہ سنا دوں۔
لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر جی اے خان طارق نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس طرح کے واقعات بہت کم ہوئے ہیں۔