الطاف حسین، ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کے لیے برطانوی لیگل فرم کو ادا کیے گئے کروڑں روپے غیرقانونی قرار دے دیے گئے۔
وزارت منگل کے روز کابینہ اجلاس میں وزارت داخلہ کی سمری کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔
وفاقی کابینہ دستاویزات میں بڑا انکشاف سامنے آیا ہے کہ عمران فاروق قتل کیس کی پیروی کرنیوالی برطانوی لیگل فرم کو ادائیگیاں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے غیرقانونی قرار دیدی ہے۔
اس خبر کو اپنے پروگرام “مقابل پبلک کے ساتھ” میں اینکر اور صحافی رؤف کلاسرا نے دستاویزی ثبوتوں ساتھ شئیر کیا۔
رؤف کلاسرا کے مطابق برطانوی فرم کو ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس اور الطاف حسین کے خلاف مقدمات کے لیے ہائر کیا گیا تھا، قانونی معاونت کی فیس کی مد میں برطانوی فرم نے اب پاکستان کو آٹھ کروڑ روپے کا بل بھیج دیا ہے اور اس حوالے سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے سنگین اعتراضات کے بعد رقم کی ادائیگی روک دی گئی ہے ۔
دستاویزات کے مطابق معاہدے کے تحت ہر ماہ پاکستان نے پچیس ہزار پاﺅنڈز فرم کو ادا کرنے تھے، یہ معاہدہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں کیا گیا۔
معاہدہ کے تحت پانچ ماہ سروسز کے لیے فرم کو ایک لاکھ تیس ہزار پونڈز پہلے بھی ادا کیے جاچکے ہیں ، اب لیگل فرم نے کل آٹھ کروڑ روپے کا نیا بل بنا کر پاکستان کو بھیج دیا ہے۔
فرم نے جولائی2018 سے جنوری2019 تک کا بل ایک لاکھ 75ہزار پاﺅنڈز بنایا ہے ۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اس حوالے سے اپنے اعتراض میں کہا ہے کہ قوانین کی رو سے وزارت داخلہ یہ معاہدہ کرنے کی مجاز نہیں تھی،یہ معاہدہ کرنے کا اختیار صرف وزارت قانون کے پاس تھا جبکہ وزارت قانون سے مشاورت کیے بغیر یہ معاہدہ کیا گیا۔
اب سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھرکھر کی جانب سے وفاقی کابینہ کو سمری ارسال کی گئی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ لیگل فرم کے لیے چار لاکھ پاﺅنڈز فوری طور پر منظور کیے جائیں جبکہ وزارت خزانہ نے اپنے مﺅقف میں کہا ہے کہ ان پاس پیسے پہلے بھی بہت کم ہیں ۔