جی 20 ممالک سے پاکستان کو قرض کی واپسی میں 800 ملین ڈالر کا ریلیف مل گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ 7 ماہ کے دوران 14 ممالک نے پاکستان کو قرض کی واپسی میں رعایت دینے کے حوالے سے معاہدے کئے ہیں۔
ان معاہدوں کے بعد پاکستان کو عارضی طور پر 800 ملین ڈالر کا ریلیف مل گیا ہے، اس کے علاوہ 2 اور ممالک نے بھی پاکستان کو قرض کی ادائیگی میں ریلیف دینے کیلئے رابطہ کیا ہے۔
حکومتی دستاویزات کے مطابق جاپان، روس، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے ساتھ اب تک ایک ارب ڈالر قرض کی ری شیڈولنگ کے معاملات طے نہیں پا سکے ہیں۔
وزارت اقتصادی امور کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان 6 ممالک نے اب تک قرض میں ریلیف سے متعلق معاہدوں کی توثیق نہیں کی ہے تاہم اس ماہ کے آخر تک معاہدے ہوجانے کی توقع ہے۔
وازرت اقتصادی امور کے مطابق پاکستان جی 20 ممالک سے مئی تا دسمبر 2020 کے عرصے کیلئے ایک ارب 80 کروڑ ڈالرز کے قرض کی واپسی میں ریلیف کی توقع کر رہا تھا، اس میں ایک ارب 47 کروڑ ڈالر قرض کی اصل رقم اور 323 ملین ڈالر کا سود شامل ہے۔
وزارت اقتصادی امور کو امید ہے کہ پاکستان قرض میں سعودی عرب سے 613 ملین ڈالر، چین سے 309 ملین ڈالر، کینیڈا سے 23، فرانس سے 183، جرمنی سے 99، اٹلی سے 6،جاپان سے 373،جنوبی کوریا سے 47، روس سے 14 ملین ڈالر، برطانیہ سے ایک اور امریکہ سے 128 ملین ڈالر کا عارضی ریلیف حاصل کر سکتا ہے۔
یاد رہے پاکستان پر رواں سال اگست میں دنیا کے 20 دولت مند ترین ممالک (جی 20) کے 4۔25 ارب ڈالر واجب الادا تھے۔