چین نے 40 سے زائد سال کے عرصے میں پہلی بار چاند کی سطح سے ملبے اور چٹانوں کو زمین پر لانے کے لیے اہم مشن کا اعلان کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کا یہ اقدام چاند اور پورے نظام شمسی کے حوالے سے انسانی سمجھ بوجھ میں اضافے کا باعث ہوگا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق اگر چین کا یہ مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو سائنسدانوں کو چاند کی تاریخ، ساخت اور اس کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں علم ہو سکے گا جو چینی خلائی پروگرام کے لیے ایک بڑا انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔
چینی ماہرین کے مطابق اس مشن کو چانگ فائیو کا نام دیا گیا ہے جو گزشتہ چالیس سالوں کے دوران بھیجا جانے والا ایک مشن ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مشن کی کامیابی کے ساتھ چین کے لیے مریخ کے مشن کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
چینی میڈیا کے مطابق چانگ فائیو کے اسپیس کرافٹ کو وین چانگ سے منگل کی صبح چار بجے روانہ کیا گیا۔
پہلے مرحلے میں روانگی کے ایک منٹ بعد ہی اسپیس کرافٹ راکٹ سے الگ ہو گیا جب کہ دوسرے مرحلے میں یہ راکٹ چاند اور زمین کے منقلی مدار میں داخل ہوا۔
یاد رہے ایک اسپیس کرافٹ چاند کی سطح پر اترنے کے لیے تین دن لیتا ہے۔
چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ راکٹ کے انجن میں خرابی کے باعث اسے تاخیر سے چاند پر بھیجا گیا ہے، اس سے قبل 2017 میں چانگ فائیو کو چاند پر نمونے اکھٹے کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
اس خلائی مشن کی کامیابی کے ساتھ چین روس اور امریکا کے بعد چاند سے چٹانیں اور ملبہ زمین پر لانے والا تیسرا ملک بن جائے گا۔
چین کے سائنس جرنل میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ خلائی مشن چاند کی سطح سے دو کلو مٹی اور چٹانوں کے ٹکڑے لائے گا۔
نومبر کے آخری دنوں میں چاند پر لینڈ کرنے والا یہ مشن دسمبر کے پہلے ہفتے میں چین کے علاقے منگولیا میں لینڈ کرے گا جہاں سائنسی ٹیم اس کے استقبال کے لیے موجود ہوگی۔
واضح رہے کہ رواں سال جولائی میں بھی چین کے جزیرے مینان سے ایک خلائی گاڑی کو مریخ کے مشن کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔
چینی حکام کے مطابق چین کا پہلا مریخ مشن آئندہ سال مئی میں مریخ پر لینڈ کرے گا۔
چین کا یہ خلائی مشن تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے مریخ تک پہنچے گا۔