ام رباب چانڈیو کے اہل خانہ کے قتل کیس کی سماعت پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سندھ پولیس 2 مفرور ملزمان کو بھی گرفتار کرنے سے قاصر ہے؟
چیف جسٹس کی سربراہی میں ہونے والی کیس کی سماعت کے دوران ام رباب نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے دونوں ایم پی ایز ملزم ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، کیونکہ ملزمان سردارخان چانڈیو اور برہان چانڈیو کو کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
چانڈیو خاندان کی متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ایک ملزم کو ڈیل کے تحت پولیس کے حوالے کیا گیا ہے، جاگیردار اور وڈیروں کے خلاف ملزمان کی سہولت کاری پر کارروائی نہیں ہوئی۔
ام رباب کا کہنا تھا کہ اگر میں انصاف کے حصول کیلئے عدالت جاتی ہوں تو وڈیرے میرا راستہ روک لیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے مفرور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس نے ابھی تک ملزم مرتضیٰ چانڈیو کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟
تہرے قتل میں ملوث گرفتار ملزم ذوالفقار چانڈیو کو سخت سیکیورٹی میں سول جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے ملزم ذوالفقار چانڈیو کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے دیگر ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کر دیا۔
خیال رہے کہ دادو کی تحصیل میہڑ میں مبینہ طور پر17جنوری 2018 کو چانڈیو برادری کے افراد نے فائرنگ کرکے ام رباب کے والد، دادا اور چچا کو قتل کردیا تھا۔
سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار ایک صبح جب سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے لیے پہنچے تھے تو ام رباب نے ان کی گاڑی کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی۔
اسی طرح متاثرہ لڑکی کی سندھ ہائی کورٹ کے باہر ننگے پیر سماعت پر آنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، جس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا تھا۔