نیوزی لینڈ میں موجود پاکستان ٹیم کی جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے کے بعد کیوی بورڈ کی دھمکی پر شعیب اختر نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان ٹیم کو کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر نیوزی لینڈ نے دھمکی دی تھی کہ پوری ٹیم کو پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا۔
سابق فاسٹ بالر شعیب اختر کا کہنا تھا کہ میں نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی کلب ٹیم نہیں ہے، یہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم ہے، ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری کرکٹ ختم نہیں ہوئی، آپ کو ہمارا احسان مند ہونا چاہیے کہ ایسے مشکل وقتوں میں ہم نے آپ کے ملک کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شعیب اختر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے بارے میں بات کر رہے ہیں، آپ کو تمیز کرنی چاہیے اور اس طرح کے بیان دینے سے گریز کرنے کے ساتھ آئندہ کے لیے محتاط رہنا چاہیے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے نام اپنے پیغام میں شعیب اختر کا کہنا تھا کہ اگر نیوزی لینڈ پاکستان ٹیم کو واپس بھیجے تو آپ ان کے ساتھ تعلقات ختم کریں۔
انہوں نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر کرکٹ بورڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کھلاڑیوں کو کمرشل فلائیٹ سے نیوزی لینڈ نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔
بغیر ماسک کے ویڈیوز بنانے پر شعیب اختر نے کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں کہا کہ آپ لوگوں کو ماسک نا پہن کر دوسرے لوگوں کو رسک میں نہیں ڈالنا چاہیے۔
یاد رہے پاکستان ٹیم کو ماسک کے بغیر ہوٹل میں گھومنے اور بات چیت کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے انتباہی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
نیوزی لینڈ نے پی سی بی کے نام اپنے پیغام میں کہا تھا کہ اگر ٹیم دوبارہ کورونا پروٹول کی خلاف ورزیوں میں ملوث پائی گئی تو پوری ٹیم کو پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا۔
واقعے کے بعد پی سی بی چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ ہمارے لیے شرمندگی کا مقام ہے، اب ٹیم کے پاس غلطی کی مزید کوئی گنجائش نہیں ہے۔