اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں اکیلے رہ جانے والے کاون ہاتھی کی کمبوڈیا منتقلی سے قبل امریکی گلوکارہ و اداکارہ چیر پاکستان پہنچیں گی۔
اکنوبر میں گلوکارہ چیر نے کاون کی پاکستان سے کمبوڈیا منتقلی کے موقع پر 2 خصوصی گانے تیار کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ہاتھی کی منتقلی کے وقت امریکا سے کمبوڈیا بھی پہنچیں گی۔
اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اداکارہ نے کاون کے لیے تیار کیے گئے پنجرے کی تصاویر شیر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ہاتھی کی کمبوڈیا منتقلی کے لیے خوش ہیں۔
خبررساں ادارے اے پی کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث اداکارہ کے دورے کو شیڈول جاری نہیں کیا گیا لیکن وہ پاکستان کے لیے روانہ ہو چکی ہیں۔
یاد رہے رواں ہفتے کاون کے لیے منقعد کی گئی الوداعی تقریب میں صدر مملکت عارف علوی نے بھی شرکت کی تھی، انہوں نے کاون کی کمبوڈیا منتقلی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں مرغزار چڑیا گھر کے جانوروں کی منتقلی کے کیس کی سماعت 21 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت کاون کی منتقلی کے لیے آسٹریا سے آئے ڈاکٹر امیر خلیل اور جرمن ایکسپرٹ فرینک گورٹز عدالت میں پیش ہوئے۔
ڈاکٹر امیر خلیل نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ ہاتھی کاون کو 29 نومبر کو کمبوڈیا بھجوایا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کاون کی دیکھ بھال کرنے کے لیے آنے والے ڈاکٹرز اور ایکسپرٹس کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پاکستان بھی جانوروں کی دیکھ بھال اور خیال رکھ سکتا تھا مگر پاکستان نے ایک مثال قائم کی ہے۔
کاون کے بارے میں ریمارکس دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاون ایک انٹرنیشنل سلیبریٹی بن چکا ہے۔
چیف جسٹس نے ڈاکٹر امیر خلیل سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے جس طرح کاون کی دیکھ بھال کی، اس کا کریڈٹ آپ کو جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا کریڈٹ ان تمام لوگوں کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اس کار خیر میں حصہ لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت بھی خود کاون کو دیکھنے گئے اور دنیا بھر کے لیے ایک مثال قائم کی۔
اپنے ریمارکس میں معزز جج کا کہنا تھا کہ قدرت نے ان جانوروں کو انسانوں کی انٹرٹینمنٹ کے لیے پیدا نہیں کیا، یہ ایک بڑا مشن ہے، ہم نے کاون کی منتقلی کے لیے سپیشل ٹرانسپورٹ باکس تیار کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ مشن ہے کیونکہ ہم نے چھوٹے ہاتھیوں کو شفٹ کیا ہے مگر یہ بڑا ہاتھی ہے اور سفر بھی طویل ہے۔
جرمن ایکسپرٹ فرینک گورٹز نے اپنے بیان میں کہا کہ میں پہلے جائزہ لینے اور کاون کی منتقلی کے لیے پاکستان آیا ہوں۔