بھارت کے دارالحکومت دہلی کی طرف مارچ کرنے والے کسانوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے اور ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق زراعت کے نئے قوانین کے خلاف احتجاج کی غرض سے دہلی کی جانب پیش قدمی کرنے والے کسانوں کو پنجاب اور ہریانہ کی سرحدوں پر روکا گیا۔
چھے ریاستوں سے آنے والے کسانوں پر پولیس کی جانب سے واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا۔
ذراعت کے نئے قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون کسان مخالف ہے اور کارپوریٹ کے فائدے کے لیے ہے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ زراعت سے متعلق نئے قوانین کسانوں کے فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش، ہریانہ، اترکھنڈ، راجستھان، کیرالہ اور پنجاب کے کسان دہلی چلو کے نعرے کے ساتھ رواں دواں ہیں۔
ان کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں جمع ہوکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں۔
کسانوں کو روکنے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی انتظامیہ کی جانب سے جگہ جگہ خاردار تاریں لگائی کئی ہیں جبکہ ریت سے بھرے ٹرالرز بھی شاہراہوں پر کھڑے کیے گئے ہیں۔ ہریانہ کو جانے والی میٹرو سروسز کو بھی بند کر دیا گیا۔
پولیس حکام سے متعلقہ معاملے پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر ان کسانوں کو دہلی نہیں جانے دیا جا رہا۔
کسان رہنما کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کووڈ کا قانون صرف کسانوں پر ہی کیوں لگایا جا رہا ہے۔ کسانوں کو روکنے کے لیے اکٹھے ہونے والے پولیس اہلکاروں پر کیوں نہیں لگایا جا رہا تو پولیس اہلکار نے جواب دیا کہ وہ بھی کسان ہی ہے۔
وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت کسانوں سے بات چیت کے لیے تیار ہے اور ان کے تحفظات کو دور کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔