وفاقی حکومت نے سینیٹ الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ آرٹیکل 186 کے تحت سینیٹ الیکشن کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان سے تجویز لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے اس قسم کا اقدام نہیں کیا۔ طے کر لیا ہے کہ اس بار سینیٹ الیکشن میں خریدو فروخت نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ پر ایم پی ایز کو نکالا ہے۔ چاہتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن شفاف ہوں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ سے گائیڈ لائنز مل جائیں گی۔ شوآف ہینڈز سے سینیٹ الیکشن کی شفافیت میں مدد ملے گی۔
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں ووٹنگ کے وقت ہاتھ کھڑے کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت 31 جنوری تک مستعفی نہ ہوئی تو یکم فروری کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا۔
اپوزیشن نے پارلیمنٹ سے استعفوں کی دھمکی بھی دی ہے تاہم معروف وزیر قانون اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ استعفوں کے باوجود سینیٹ الیکشن ہو سکتے ہیں۔