چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کے درمیان کوٹ لکھپت جیل میں ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شہبازشریف نے بلاول بھٹو زرداری کو سخت فیصلوں کی طرف جانے کے بجائے حکومت سے مذاکرات کا مشورہ دے دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے شہباز شریف سے استعفوں کے متعلق مشورہ مانگا تو انہوں نے اسے آخری آپشن قرار دیا اور کہا کہ اس حوالے سے ہارڈ لائن نہ لی جائے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی طرح پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی سے پارٹی قیادت استعفے لے کر اسے موزوں وقت پر استعمال کرے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں پی ڈی ایم کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور حکومت پر مرحلہ وار دباؤ میں اضافہ کرنے کی پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری نے ساتھیوں کے ساتھ شہبازشریف کی والدہ کے لیے فاتحہ خوانی کی جب کہ اپنی والدہ محترمہ بینظیر بھٹو اور والد کی قید کا ذکر بھی کیا۔
ملاقات کے بعد بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے استعفوں کو ایٹم بم قرار دیا اور کہا ہے اس کے استعمال کا وقت پی ڈی ایم قیادت کے ساتھ مل کر طے کیا جائے گا۔