تاشقند ( مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے تاشقند میں بھارتی صحافی کی بولتی بند کر دی ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اس وقت تاشقند میں موجود ہیں۔ وسطی و جنوبی ایشیائی رہنما روابط کانفرنس میں 60 ممالک کے سربراہان اور مندوبین شرکت کررہے ہیں ، کانفرنس میں شرکت کیلئے آمد پر ازبک صدر شوکت علیوف نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔وزیراعظم عمران خان سے بھارتی صحافی نے سوال کیا کہ کیا مذاکرات اور دہشتگردی ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔جس پر وزیراعظم نے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کب سے کہہ رہے ہیں مہذب ہمسائے بن کر رہیں لیکن کیا کریں آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی بیچ میں آ گئی ہے۔ اسی حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا کہ کچھ لوگ کشمیر میں کھڑے ہوکر مودی کی زبان بول رہے ہیں ۔ اور خان تاشقند میں بھارتی میڈیا کے سامنے مودی اور آر ایس ایس کے دہشتگردرانہ نظرئے کو بے نقاب کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہوتا ہے فرق ایک لیڈر اور پرچی و وراثتی سیاست دانوں میں۔
۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیرخارجہ سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر سے ہاتھ ملانے سے انکار تاشقند میں ہونے والی کانفرنس کے موقع پر کیا گیا ، جہاں وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے علاوہ تمام شرکاء سے ہاتھ ملائے ، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے فرداً فرداً تمام سربراہان مملکت اور وزرائے خارجہ سے مصافحہ کیا لیکن بھارت کے وزیر خارجہ سے ہاتھ نہیں ملایا جب کہ جے شنکر کے ساتھ کھڑے روسی وزیرخارجہ سے وزیراعظم عمران خان نے غیر رسمی گفتگو بھی کی۔
اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ پہلے کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کرو پھر بات کریں گے اور کشمیر کے ایجنڈے کے بغیر بھارت سے کوئی بات نہیں ہو سکتی۔