اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) شوگر مافیا نے 2020ء کے اوائل میں وزیراعظم عمران خان اور ساتھ ہی ڈی جی ایف آئی اے اور انکوائری کمیشن کے سربراہ واجد ضیاء کو دھمکی دی تھی کہ شوگر اسکینڈل کی تحقیقات روک دی جائیں بصورت دیگر ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا اور اس کی قیمت 110 روپے فی کلو ہو جائے گی۔ قومی اخبار جنگ نیوز میں شائع رپورٹ میں سینئیر کالم نگار انصار عباسی نے کہا کہ آج دیکھا جائے تو اس کے برعکس چینی کی قیمت ڈیڑھ سو روپے فی کلوگرام ہے۔ چاہے انکوائری کمیشن کا قیام ہو یا پھر اس کی تیار کردہ رپورٹ پر مختلف سرکاری ایجنسیوں کی طرف سے عملدرآمد یا پھر شوگر کارٹیل والوں کیخلاف مقدمات کا اندراج اور گرفتار، حکومت کا ہر اقدام بے سود ثابت ہوا ہے اور چینی کی قیمت حکومت کی منشاء کے مطابق 70 روپے سے نیچے نہیں آ سکی۔ گذشتہ دور حکومت میں 52 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہونے والی چینی کی قیمت اس دور حکومت میں تین گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ انصار عباسی نے کہا کہ وزیراعظم کو دھمکی دی گئی تھی کہ شوگر کمیشن نے اپنا کام جاری رکھا اور ملوث افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی جاتی رہی تو ملک کو چینی کے بدترین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دی نیوز نے خبر دی تھی کہ اُس وقت کے ڈی جی ایف آئی اے (جو کمیشن کے سربراہ بھی تھے) سے کہا گیا تھا کہ وہ تحقیقات روک دیں ورنہ چینی کی قیمتیں ایک سو دس روپے فی کلو تک پہنچا دی جائیں گی۔
انصار عباسی کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے وزیراعظم آفس کو اس بات سے آگاہ کیا کہ انہیں کیا دھمکی دی گئی ہے۔ کچھ اہم سرکاری مشیروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرکاری اقدامات کی وجہ سے شوگر مافیا کو نقصان ہو رہا ہے اور یہ مافیا حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر داخلہ اور احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے ذاتی طور پر شوگر مافیا کے خلاف اقدامات کی نگرانی کی گئی تھی لیکن حکومت کے تمام تر اقدامات کی وجہ سے چینی کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں۔
اپنی رپورٹ میں انصار عباسی نے کہا کہ ایکشن پلان کے تحت سات وفاقی اور صوبائی اداروں سے کہا گیا تھا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں جن عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے اُن کیخلاف سات مختلف طرح کے فوجداری، ریگولیٹری اور ٹیکس سے جڑے اقدامات کیے جائیں۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو سیاست دان شوگر ملوں کے مالکان ہیں، جن کا فارنسک آڈٹ بھی کروایا گیا تھا، اُن سے نیب والے پوچھ گچھ بھی کریں گے اور 6 دیگر ادارے بھی اُن سے تحقیقات کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اِن سیاست دانوں میں جہانگیر ترین، شریف فیملی والے، چوہدری الٰہی فیملی والے، خسرو بختیار کے بھائی اور آصف زرداری شامل ہیں۔ جن اداروں سے کارروائی کیلئے کہا گیا تھا اُن میں نیب، ایف آئی اے، ایس ای سی پی، ایف بی آر، مسابقتی کمیشن، اسٹیٹ بینک اور صوبائی اینٹی کرپشن ادارے شامل تھے۔ شوگر کمیشن نے نشاندہی کی تھی کہ شوگر ملوں نے مبینہ طور پر ایسوسی ایٹڈ کمپنیوں کے ذریعے فراڈ کیا ہے۔
تحقیقات کے دوران افغانستان کو کی گئی جعلی برآمدات بھی سامنے آئیں اور یہ کیسز ایف آئی اے کے حوالے کیے گئے۔ ایجنسی سے کہا گیا تھا کہ وہ جعلی برآمدات اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرے۔ شوگر کمیشن نے ان جرائم کا بھی پتہ لگایا تھا کہ شوگر مل مالکان گنے کے کاشتکاروں کو سپورٹ پرائس سے کم قیمت دیتے ہیں اور وزن کے معاملے میں غیر قانونی کٹوتیاں کرتے ہیں۔
انصار عباسی نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ ایکشن پلان میں کہا گیا تھا کہ ایسے جرائم کی تحقیقات اور کارروائی کیلئے سندھ، پنجاب اور کے پی کے اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو شامل کیا جائے۔ تاہم، ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے عوام کا فائدہ ہو اور عوام آج ڈیڑھ سو روپے فی کلوگرام یا پھر اس سے زیادہ قیمت میں چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔