• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 29, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home Uncategorized

آخر کیوں؟

by sohail
نومبر 7, 2021
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

خبط عظمت کا جنون

شعب اختر اور پی ٹی وی سپورٹس چینل کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز کے درمیان لائیو شو میں جو کچھ ہوا اسے دیکھ اور سن کر شمس تبریز اور رومی کے درمیان ہونے والی گفتگو یاد آئی جو ترکی کی شاندار مصنفہ نے اپنے کمال ناول Forty Rules of Love میں لکھی تھی۔
مجھے اعتراف کرنے دیں حالیہ برسوں میں جن دو ناولز نے میری سوچ بدلی یا مجھے ٹرانسفارم کیا ان میں “فورٹی رولز آف لو “اور ماریو پزو کا ناول” گاڈ فادر” شامل ہیں۔
جب شمس تبریز کی رومی سے ملاقات ہوئی اور وہ اکھٹے رہنے لگے تو شمس کو اندازہ ہوا لوگ رومی کی بےپناہ عزت کرتے ہیں۔ اسے دنیا کا نیک ترین انسان تصور کرتے ہیں جو کبھی کوئی غلط یا غیر شرعی کام نہیں کرسکتا۔ شمس کو لگارومی میں زعم تقوی بھرتا جارہا ہے۔
ایک دن رومی کو شمس نے کہا جائو اور شہر کے شراب خانے سے میرے لیے وائن لے کر آئو۔ رومی اپنےگرو کو بھلا کب انکار کرتا۔ شراب خانے سے شراب خریدنے اندر داخل ہوا تو پورا شہر امڈ آیا یہ کیا ہورہا ہے؟ رومی جیسا نیک انسان شراب خانے سے شراب لینے آیا ہے؟
رومی نے شراب خریدی اور جاکر اپنے گرو کو پیش کی۔ شمس صرف یہ چاہتا تھا رومی کے اندر اتنا تقوی نہ بھر جائے کہ وہ خبط عظمت کا شکار ہو جائے۔ لوگ اس کی پوجا نہ شروع کر دیں کہ وہ انسان نہیں کوئی دیوتا ہے۔
اس طرح اسے ناول میں ایک اور واقعہ جس نے مجھے بہت متاثر کیا اور میری سوچ انسانوں کے حوالے سے بدلی وہ تھی جب شمس تبریز رومی کے گھر ٹھہرا ہوا ہوتا ہے تو باہر شور مچ جاتا ہے۔ شمس باہر نکل کر پوچھتا ہےکیا ہورہا ہے؟ اسے بتایا جاتا ہے ایک طوائف رومی کے گھر شمس سے ملنے آئی ہے۔ شمس پوچھتا ہے اس پر اتنا شور کیسا؟
گھر والے جواب دیتے ہیں کہ آپ کے نزدیک یہ کوئی بات ہی نہیں کہ رومی جیسے نیک انسان کے گھر کی چھت نیچے ایک طوائف موجود ہے۔
شمس تبریز نے انگلی اٹھا کر اسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا پہلے بھی تو رومی اور یہ طوائف بلکہ ہم سب لوگ اس بڑی نیلی چھت تلے اکھٹے رہتے ہیں۔ اگر اس چھت کے نیچے ایک طوائف ساتھ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو رومی کی چھت سے کیا فرق پڑ جائے گا۔
ان دو واقعات نے میری سوچ بدل کر رکھ دی۔
اس طرح گوتم بدھ نے پاس شہزادے جب اتے تھے تو وہ پہلا کام یہی کرتا انہیں کشکول دے کر کہتا کہ جائو گائوں گائوں پھرو اور بھیک مانگ کر لائو۔ اب شہزادوں سے بھیک منگوانے کا کیا مقصد تھا؟
ایک ہی تھا کہ انسان کی انا کو توڑا جائے۔
انسانی مسائل کی ذمہ دار جہاں دیگر خرابیاں ہیں ان میں سے ایک بڑی خرابی اس کی انا ہے۔ انسان انا کی خاطر اچھے کام بھی کرتا ہے اور برے کام بھی کرتا ہے۔ یہی انا اس سے نیکی بھی کراتی ہے لیکن اپنے جیسے انسان کو قتل بھی کرا دیتی ہے۔
میں خود جانتا ہوں میری انا نے مجھے بعض مواقعوں پر بہت نقصان پہنچایا ہے۔ میں آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بعض مواقع پر مجھے خاموش رہنا چائیےتھا۔ بعض کام مجھے نہیں کرنے چائیےتھے۔ مجھے بعض باتیں کسی کی مان لینی چاہیے تھے۔ مجھے اپنی انا کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہئے تھی کہ مجھے ہی نقصان ہوتا۔ اب بھی میری انا مجھے بہت دفعہ اکساتی ہے۔ مجھے غصہ دلاتی ہے لیکن میں خود کی کونسلنگ کرتا ہوں۔ رومی اور شمس تبریز کی ملاقات کا احوال یاد کرتا ہوں یا پھر خیالات میں گوتم بدھ کے شہزادوں کو گلی گلی کریہ کریہ ہر دووازے پر دستک دے کر کچھ آٹا مانگتے دیکھتا ہوں تو میرا من کچھ شانتی پاتا ہے۔ ہم انسانوں کی کتنی اوقات ہے اور کتنی دیر لگتی ہے ہیرو سے زیرو بننے میں۔ ایک چھوٹی سے انسانی غلطی یا بے احتیاطی اور آپ پر سب انسان پتھر لے کر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ خدا تو شاید انسان کو معاف کردیتا ہے لیکن ہم انسان ایک دوسرے کو معاف نہیں کرپاتے۔
ہم بھی شاید زعم تقوی کا شکار ہوتے ہیں ۔
اینکر ڈاکٹر نعمان نیاز بھی شاید اس لمحے اپنی انا کے ہاتھوں شکست کھا گئے جب انہوں نے شعیب اختر کو شو سے چلے جانے کو کہا اور پھر شعیب کے کہنے پر ایک لفظ سوری کہنے سے انکاری ہوگئے۔ ڈاکٹر نعمان کی انا نے کہا ہوگا کہ وہ عالمی کھلاڑیوں گاور اور رچرڈز سامنے کیوں سوری کریں یا شعیب نے سوچا ہوگا ان دونوں عظیم کھلاڑیوں سامنے اس سے سوری نہ کی گئی تو اس کی عزت خراب ہوگی یا پھر سوچا ہوگا کہ پوری دنیا دیکھ رہی تھی کہ کیا ہوا؟
اب اگر ڈاکٹر نعمان ایک لفظ سوری کہہ دیتا تو کیا بگڑ جاتا۔؟ اس کے بعد جو کچھ اسے فیس کرنا پڑا اس کے مقابلے میں سوری بہت چھوٹی قیمت تھی۔ میں نے جب ڈاکٹر نعمان نیاز کا اپنے یوٹیوب چینل کے لیے انٹرویو کیا تو اس نے کھل کر شعیب اختر سے معافی مانگی۔ ان دنوں میں نعمان کے ستاسی سالہ بوڑھے والد جنرل نیاز کو سوشل میڈیا پر برا بھلا کہا گیا۔ نعمان کی بیٹی کی تصویریں سوشل میڈیا پر ڈال کر نازیبا باتیں کی گئیں۔ لوگوں نے دنیا جہاں کی گالیاں دیں۔ میرے یوٹیوب ویڈیو جس میں اس نے معافی مانگی تھی کے نیچے دو ڈھائی ہزار کمنٹس میں بہت نامناسب لفظ استعمال کیے گئے۔ بندہ اپنی غلطی کی معافی نہ مانگے تو بھی گالیاں کھائے اور مانگ لے تو بھی گالیاں؟
ڈاکٹر نعمان سے غلطی ہوئی ۔ تو کیا اس کی بیٹی اور بوڑھے باپ کو بھی اس کی غلطی کی سزا گالیوں کی صورت میں بھگتنا ہوگی؟ ہمارے اسلام میں معاف کر دینےوالا کا کتنا بڑا صلہ اور مقام بتایا گیا ہے۔
کیا ہم میں سے کوئی زندگی میں غلطی نہیں کرتا؟ ہم سب فرشتے ہیں؟ نیک روحیں ہیں ؟ ہم خود اپنے لیے لوگوں سے معافی کی توقع رکھتے ہیں اور دوسروں کے کیس میں ہم سزا پر یقین رکھتے ہیں؟
اختلاف تمیز سے بھی ہوسکتا ہے۔ کیا کسی کی ماں بہن یا باپ کی تصویریں لگا کر گالیاں دے کر ہی غصہ نکالا جائے گا؟
مشہور ہونا جہاں ایک نعمت ہے وہیں یہ بہت بڑی سزا بھی ہے۔ آپ کو کچھ پتہ نہیں آپ کی کون سی چھوٹی بڑی غلطی کی سزا نہ صرف آپ بلکہ آپ کے بیوی بچے تک فیس کرتے ہیں۔
مشہور بندے کو گرانے کے لیے ہم لوگ ویسے ہی موقع ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔
میرا خیال تھا شعیب اختر بڑے دل کا مظاہرہ کرے گا اور ڈاکٹر نعمان کی معافی کو پازیٹو لے گا۔ اگرچہ اس نے کہا اس نے ڈاکٹر نعمان کو معاف کر دیا تھا لیکن پھر “اگر مگر” کر کے جو باتیں کی ہیں اس سے لگتا ہے کہ ہم سب کے اندر چھوٹے چھوٹے دیوتا بستے ہیں۔ خدا ہمیں جتنی شہرت اور عزت دیتا چلا جاتا ہے ہماری انا کا قد بھی اتنا بلند ہوتا جاتا ہے۔ ہم بھی خبط عظمت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہی بات یہی انا آپ کو اوپر بھی لے جاتی ہے اور یہی نیچے بھی لے آتی ہے۔ شعیب اختر کو اپنے تیس سالہ پرانے دوست نعمان سے سبق سیکھنے کی ضرورت تھی کہ انسان خود پر کنٹرول نہ کرے تو کیا کیا مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ شعیب اختر کا اس واقعے بعد بار بار اپنی “عظمت” کو اپنے منہ سے دہرانا بھی اس کے لیے خطرے کی نشانی ہے۔ خبط عظمت ہمیشہ خود کو نقصان پہنچاتی ہے۔ شعیب اختر کو ٹی وی پر اس ایشو پر بولتے سن کر پتہ نہیں مجھے کیوں لگتا ہے شعیب اختر بھی اب اسی خبط عظمت کا شکار ہورہے ہیں جس کا شکار ان کا تیس سال پرانا دوست ڈاکٹر نعمان ہوا تھا۔

Tags: Rauf Klasrarauf klasra column
sohail

sohail

Next Post

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اہم اجلاس ، کیا فیصلے ہوئے ؟تفصیلات سامنے آ گئیں

مجھ سے غلطی ہوگئی، ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں

کیا آپ جانتے ہیں کہ کپتا ن بابر اعظم کے ساتھ بیٹھی یہ شخصیت کون ہیں

اسلام آباد سیکٹر G/11 میٹرو سٹیشن کے واشروم سے 11 سالہ معصوم بچی کی لاش ملنے کا واقعہ، قتل سے قبل زیادتی کی تصدیق کر دی گئی

33ہزار خالی اسامیاں پُر کرنے کا فیصلہ ، پاکستانی نوجوان لڑکے لڑکیاں تیاری کر لیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In