• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, اپریل 20, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home Uncategorized

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اہم اجلاس ، کیا فیصلے ہوئے ؟تفصیلات سامنے آ گئیں

by sohail
نومبر 8, 2021
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو عسکری قیادت کی جانب سے بتایاگیاہے کہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام خطے میں امن اور ترقی کے لئے ناگزیر ہے،پاکستان برادر افعان عوام کی حمایت اور تائید جاری رکھے گا اور افغانستان میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، اجلاس میں اعلیٰ عسکری حکام نے ملک کی سیاسی و پارلیمانی قیادت، اراکین قومی اسمبلی و سینٹ، صوبائی و آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت کو اہم خارجہ امور، داخلی سلامتی،اندرونی و بیرونی چیلنجز،خطےمیں وقوع پذیرہونےوالی تبدیلیوں خصوصاًتنازعہ کشمیراورافغانستان کی حالیہ صورتحال کےحوالےسےجامع بریفنگ دی گئی۔ نجی ٹی وی کےمطابق پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس منعقد ہوا۔جس میں اعلیٰ عسکری حکام نے جامع بریفنگ دیتے ہوئےاجلاس کو بتایا کہ پاکستان برادر افعان عوام کی حمایت اور تائید جاری رکھے گا اور افغانستان میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، پاکستان نے افغان امن عمل میں پرخلوص طور پر مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ موجودہ حالات کسی اور انسانی و معاشی بحران کو جنم نہ دیں جو افعان عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث ہوں اور اس سلسلے میں پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اجلاس میں پاکستان افغانستان سرحد پر بارڈر کنٹرول کے نظام کے بارے میں بھی بتایا گیا۔
سیاسی و پارلیمانی قیادت نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور افغانستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ان کی رائے میں ایسے اجلاس نہ صرف اہم قومی امور پر قومی اتفاق رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ مختلف قومی موضوعات پر ہم آہنگی کو تقویت دینے کا بھی باعث بنتے ہیں۔
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی، قومی اسمبلی اور سینٹ میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور سید یوسف رضا گیلانی وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، چودھری فواد حسین، چودھری طارق بشیر چیمہ، شیخ رشید احمد،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری،وزیر دفاع پرویز خان خٹک،وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، شفقت محمود، ڈاکٹر شیریں مزاری، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ، علی امین گنڈا پور، مراد سعید،شبلی فراز، ڈاکٹر فروغ نسیم، اعجاز احمد شاہ، مونس الٰہی ، نور الحق قادری،عمر ایوب خان، سید فخر امام ،سید امین الحق، وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، چیئر مین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ملک محمد عامر ڈوگر، سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم، ارکان قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری، اسد محمود، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، غوث بخش خان مہر، عامر حیدر اعظم خان، نوابزادہ شاہ ذین بگٹی، اراکین سینیٹ شیری رحمان، اعظم نذیر تارڑ، انوار الحق کاکڑ، مولانا عبدالغفور حیدری، سید فیصل علی سبزواری، محمد طاہر بزنجو، ہدایت اللہ خان، محمد شفیق ترین، کامل علی آغا، مشتاق احمد، سید مظفر حسین شاہ، محمد قاسم اور دلاور خان ،ارکان قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی، خواجہ محمد آصف، رانا تنویر حسین، احسن اقبال چوہدری، راجہ پرویز اشرف اور حنا ربانی کھر ، سید نوید قمر ، محسن داوڑ ، خواجہ سعد رفیق ، طارق صادق ، سید فیاض الحسن ، سینیٹر میاں رضا ربانی اور قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے دفاع کے ممبران نے خصوصی طور پر دعوت دی گئی ہے۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ ، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر، اور وزیر اعلی گلگت بلتستان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار سمیت دیگر اعلی عسکری حکام بھی موجود تھے۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کی شروعات ہو چکی ہےاور ایک معاہدے کےتحت حکومت اورکالعدم ٹی ٹی پی مکمل سیزفائرپرآمادہ ہوچکے ہیں،مذاکرات میں افغانستان کی عبوری حکومت نے سہولت کار کا کردار ادا کیا، یہ خوش آئند ہے کہ پاکستان کے یہ علاقے طویل عرصے بعد مکمل امن کی طرف بڑھ رہےہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو مذاکرات کالعدم ٹی ٹی پی سےہورہےہیں وہ پاکستان کےآئین اورقانون کےتحت ہوں گے اور کوئی بھی حکومت پاکستان کے آئین اور قانون سے باہر مذاکرات کر ہی نہیں سکتی، مذاکرات میں ریاست کی حاکمیت اور ملکی سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا،مذاکرات میں ان علاقوں کے متاثرہ افراد کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ان علاقوں کے افراد کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔

sohail

sohail

Next Post

مجھ سے غلطی ہوگئی، ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں

کیا آپ جانتے ہیں کہ کپتا ن بابر اعظم کے ساتھ بیٹھی یہ شخصیت کون ہیں

اسلام آباد سیکٹر G/11 میٹرو سٹیشن کے واشروم سے 11 سالہ معصوم بچی کی لاش ملنے کا واقعہ، قتل سے قبل زیادتی کی تصدیق کر دی گئی

33ہزار خالی اسامیاں پُر کرنے کا فیصلہ ، پاکستانی نوجوان لڑکے لڑکیاں تیاری کر لیں

کلبھوشن کیس میں بڑی پیشرفت ؟ 11 نومبر کو کیا ہونے جا رہا ہے؟ اہم خبر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In