اسلام آباد ( عمران مگھرانہ)سینیٹ میں پیش کی گئی دستاویزات نے پاکستان میڈیکل کمیشن کی لوٹ مار کا پردہ چاک کر دیا۔ سینیٹ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق موجودہ برس 194,309طلبا و طالبات نےایم ڈی کیٹ کا امتحان دیا جس میں سے صرف68723 ٹیسٹ پاس کر سکے۔ میڈیکل ایند ڈینٹل کے انٹری ٹیسٹ کی مد میں پاکستان میڈیکل کمیشن نے 1ارب21کروڑ83 لاکھ روپے سے زائد فیس وصول کی۔پاکستان میڈیکل کمیشن نےٹیپسTEPS)) کو ایم ڈی کیٹ کا امتحان لینے کی ذمہ داریاں دی تھیں۔ دستاویزات کے مطابق پی ایم سی نے TEPS کمپنی کوساڑھے 27 کروڑ روپے کی ادائیگی کی۔انٹری ٹیسٹ کی فیس 1500 سے بڑھا کر 6000 کر دی گئی تھی۔پاکستان میڈیکل کمیشن ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طالبعلموں کو سہولت کی فراہمی کی بجائےلوٹ مار کرنے لگا۔سینیٹ ہیلتھ کمیٹی نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے تھے۔ پریزیڈنٹ پی ایم سی نے کمیٹی کو بریفنگ بھی دی تھی ۔ بیشتر سینیٹرز نے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے لیے TEPS کا انتخاب کیوں کیا گیا اس پر سینیٹ ہیلتھ کمیٹی نے ایک تفصیلی بریفنگ مانگ لی تھی۔